بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 21/10/2026 |
دارالافتاء
تعزیت کا مسنون طریقہ
سوال
تعزیت کا مسنون طریقہ کیا ہے ؟ تعزیت کے دوران ہر آنے والے کے ساتھ ہاتھ اٹھا کر دعا کرنا سنت سے ثابت ہے یا نہیں؟
جواب
کسی مسلمان کے انتقال پر میت کے متعلقین سے تعزیت کرنا ( یعنی ان کو تسلی دینا اور صبر کی تلقین کرنا ) سنت سے ثابت ہے، تعزیت کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ میت کی تدفین سے پہلے یا تدفین کے بعد میت کے خاندان والوں کے پاس جا کر ان کو تسلی دی جائے اوران کی دل جوئی کرنے کے ساتھ صبر کی تلقین کی جائے، ان کے اور میت کے حق میں دعا کرنا بھی تعزیت میں شامل ہے ،البتہ تعزیت کے لیے کوئی الفاظ متعین نہیں ،صبر اور تسلی کے لیے جو الفاظ زیادہ موزوں ہوں وہ جملے کہےجا سکتے ہیں ،نیز تعزیت کی بہترین دعا جو سنت سے ثابت ہے وہ یہ ہے’’إِنَّ لِلّٰهِ مَا أَخَذَ وَلَه مَا أَعْطٰى، وَكُلُّ شَيْءٍ عِنْدَه بِأَجَلٍ مُّسَمًّى‘‘ یا ’’أَعْظَمَ اللّٰهُ أَجْرَكَ وَ أَحْسَنَ عَزَائَكَ وَ غَفَرَ لِمَيتِكَ‘‘اس سے زائد بھی ایسی الفاظ کہے جاسکتے ہیں جس سے غم ہلکا ہو اور آخرت کی فکر پیدا ہو۔
جہاں تک تعزیت کے دوران ہر آنے والے کے ساتھ ہاتھ اٹھا کر دعا کرنے کی بات ہے تو یہ عمل سنت سے ثابت نہیں اس لیے اس کو لازم سمجھ کر کرنا شرعاً جائز نہیں ہے، البتہ لازم سمجھے بغیر مغفرت کی دعا کے لیے ہاتھ اٹھا نے میں کوئی حرج نہیں ۔
عن أبي عثمان، قال: حدثني أسامة بن زيد رضي الله عنهما، قال: أرسلت ابنة النبي صلى الله عليه وسلم إليه إن ابنا لي قبض، فأتنا، فأرسل يقرئ السلام، ويقول:إن لله ما أخذ، وله ما أعطى، وكل عنده بأجل مسمى، فلتصبر، ولتحتسب(صحيح البخاري،باب قول النبي صلى الله عليه وسلم يعذب الميت ببعض بكاء أهله عليه،ج1،ص343)
ويستحب أن يقال لصاحب التعزية: غفر الله تعالى لميتك وتجاوز عنه، وتغمده برحمته، ورزقك الصبر على مصيبته، وآجرك على موته، كذا في المضمرات ناقلاً عن الحجة. وأحسن ذلك تعزية رسول الله صلى الله عليه وسلم: إن لله ما أخذ وله ما أعطى وكل شيء عنده بأجل مسمى۔(الفتاوی الهندية،مسائل التعزية،ص 228)
قوله: "تستحب التعزية الخ" ويستحب أن يعم بها جميع أقارب الميت إلا أن تكون امرأةً شابةً وهو المشار إليه بقوله: اللاتي لايفتن، وهو بالبناء للفاعل، ولا حجر في لفظ التعزية، ومن أحسن ما ورد في ذلك ما روي من تعزيته صلى الله عليه وسلم لإحدى بناته وقد مات لها ولد فقال: "إن لله ما أخذو له ما أعطى وكل شيء عنده بأجل مسمى، أو يقول: عظم الله أجرك وأحسن عزاءك وغفر لميتك ۔ ۔ ۔ "إن في الله سبحانه عزاء من كل مصيبه وخلفاً من كل هالك ودركاً من كل فائت؛ فبالله تعالى فثقوا، وإياه فارجوا؛ فإن المصاب من حرم الثواب"،۔ ۔ ۔ وعزيته تعزيةً: قلت له: أحسن الله تعالى عزاءك: أي رزقك الصبر الحسن. ووقتها من حين يموت إلى ثلاثة أيام وأولها أفضل وتكره بعدها؛ لأنها تجدد الحزن وهو خلاف المقصود منها؛ لأن المقصود منها ذكر ما يسلي صاحب الميت ويخفف حزنه ويحضه على الصبر۔ ۔ ۔ فروى مالك في الموطأ عن أم سلمة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: "من أصابته مصيبة فقال كما أمره الله تعالى إنا لله وإنا إليه راجعون اللهم أجرني في مصيبتي وأعقبني خيراً منها إلا فعل الله تعالى ذلك به". فينبغي لكل مصاب أن يفزع إلى ذلك، وظاهر الأحاديث أن المأمور به قول ذلك مرةً واحدةً فوراً؛ لقوله صلى الله عليه وسلم: "إنما الصبر عند الصدمة الأولى"، رواه البخاري۔(حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح، کتاب الجنائز،فصل في حملها ودفنها،ص:510)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 329
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 246
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 894
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 455
- کتاب الصوم | فتاوئ : 91
- کتاب الحج | فتاوئ : 112
- کتاب النکاح | فتاوئ : 576
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 494
- خلع | فتاوئ : 50
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 7
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 60
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 88
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 477
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 102
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 78
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 82
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 22
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 177
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 413
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 22
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 32
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 8
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 199
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 154
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 63
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 43
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 324
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1193
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 34
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 388
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں