بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/10/2026

دارالافتاء

 

وطن اقامت سے شرعی مسافت کی جانب سفر کرنا


سوال

اگر کوئی شخص  شہرمثلا صوابی کے ایک گاؤں کا  رہنے والا ہو جو کہ اس شہر  (صوابی)سے  تقریبا 23کلومیٹر دور ہے اور وہ شخص (پشاور) شہر کے ایک  مدرسہ میں پڑھتا ہے اور اس نے مدرسہ میں دو ہفتے اقامت  کی نیت سے گزارے ہیں   جب وہ گھر سے نکلتا ہے تو دو ہفتوں کی اقامت کی نیت سے نکلتا ہے    لیکن اس دوران وہ ایک ہفتہ بعد وہ صوابی خاص  جاتا ہے لیکن وہاں سے واپس آتاہے  اپنے گھر نہیں جاتا توکیا وہ صوابی خاص میں مسافر شمار ہو گا یا نہیں ،ِنیز  اس کے مقیم اور مسافر ہونے کے لیے حدود کیا ہیں؟ یعنی صوابی جانے کی صورت میں وہ  کب نماز میں قصر کرے گا  اور صوابی میں داخل  ہوتے ہی وہ نماز  پوری پڑھے گا یا   گاؤں کے حدود میں داخل ہونے  کا اعتبار ہوگا؟

جواب

               واضح رہےکہ جب کسی جگہ  پر کوئی آدمی پندرہ دن اقامت کی نیت کرکے وہاں اقامت اختیار کرے اور اس جگہ کو ایک مرتبہ وطن اقامت بنالے تو  جب تک اس کو ترک نہ کیا ہو اس وقت تک بار بار آنے جانے سے وطن اقامت پر کوئی اثر نہیں پڑے گا ۔

              صورت مسئولہ میں مذکورہ شخص ایک مرتبہ پشاور میں پندرہ دن کی   اقامت   اختیار کرنے کے بعد اب ہر مرتبہ  پوری نماز  ادا  کرے گا،اور جب  وہ  پشاورسے   صوابی کی جانب  سفر  پر نکلے گا تو   پشاور شہر کے حدود سے  نکلنے پر مسافر شمار ہوکر  نماز میں قصر کرےگا  اور  ضلع صوابی  میں داخل ہونے کے بعد (صوابی خاص) میں    بھی مسافرہونے کی وجہ سے  قصر واجب ہوگا،اس لیے کہ( صوابی خاص ) وطن اقامت یعنی پشاور سے 48میل سے زیادہ  کی مسافت پر ہے، البتہ وہاں سے واپسی پر  پشاور شہر  کے حدود میں داخل ہونے کے بعد پوری نماز پڑھے گا اور گاؤں جاتے ہوئےجب تک وہ ا  پنے آبائی گاؤں کے حدود میں داخل نہ  ہو تو نماز میں قصر کرے گا ،البتہ اپنے آبائی گاؤں کے حدود میں داخل ہونے کے بعد وطن اصلی کی وجہ سے پوری نماز ادا کرےگا۔

 

السفر الذي يتغير به الأحكام أن يقصد الإنسان مسيرة ثلاثة أيام ولياليها۔(فتح القدير،كتاب الصلوة،باب صلوة المسافر،ج2،ص2)

ولا يزال على حكم السفر حتى ينوي الإقامة في بلدة أو قرية خمسة عشر يوما أو أكثر۔(الفتاوی الهندية،كتاب الصلوة،الباب الخامس عشر في صلاة المسافر،ج1،ص139)

وإذا فارق المسافر بيوت المصر صلى ركعتين " لأن الإقامة تتعلق بدخولها فيتعلق السفر بالخروج عنها وفيه الأثر عن علي رضي الله عنه لو جاوزنا هذا الخص لقصرنا " ولا يزال على حكم السفر حتى ينوي الإقامة في بلدة أو قرية خمسة عشر يوما أو أكثر وإن نوى أقل من ذلك قصر " لأنه لا بد من اعتبار مدة،(الهداية،كتاب الصلوة،باب صلوة المسافر،ج1،ص174)

(من خرج من عمارة موضع إقامته) (قاصدا) (مسيرة ثلاثة أيام ولياليها) من أقصر أيام السنة ولا يشترط سفر كل يوم إلى الليل صلى الفرض الرباعي ركعتين۔(تنوير الابصارعلی صدر ردالمحتار،كتاب الصلوة،باب صلوة المسافر،ج2،ص601،599)


فتویٰ نمبر : 9349/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں