بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/10/2026

دارالافتاء

 

بیٹے کا اپنے والد کے ترکہ میں وراثت کا حق


سوال

اگر کوئی شخص اپنے اکلوتے بیٹے اور بیوی کو طلاق دیے بغیر گھر سےنکال دے اوربیوہ بھاوج کے ساتھ بغیر نکاح کے رہے اسی گھر میں جو دونوں بھائیوں کامشترکہ تھا اس شخص نے اپنی زمین اس بیوہ بھاوج کے بیٹے کو دے دی ۔اب اس شخص کی وفات کے بعد اس کا بیٹا اپنے والد کی زمین،مکان اور مال مویشی میں مطالبہ کر سکتا ہے یا نہیں اگر کر سکتا ہے تو کس کس چیز کا ؟

جواب

          شرعی نقطہ نظر سے وراثت ایک اضطراری حق ہے اس لیے کوئی شخص  اپنی طرف سے اس حق کو ساقط نہیں کرسکتاچنانچہ باپ کے مرنے کے بعد گھر سے نکالا گیا بیٹا بھی میراث کا حقدار ہے۔تاہم اگر باپ نے زندگی میں اپنی جائیداد كسی كو ہبہ کرکے ان کو قبضہ دیدیا ہوتوپھر باپ کے مرنے کے بعد  بیٹے کو مطالبہ کا حق نہیں۔

           صورت مسؤلہ میں اگر باپ نے اپنی زندگی میں اپنی زمین بھاوج کے بیٹے  کو ہبہ کرکےاس کے قبضہ میں  دیدی ہو تو پھر بیٹے کو اس زمین میں وراثت کا حق نہیں،البتہ اس کے علاوہ جو ترکہ زمین ،مکان،مال مویشی وغیرہ ہو اس میں  بیٹا اور بیوہ وراثت کے حق دار ہیں۔

 

الارث جبرى لايسقط بالاسقاط۔(تكملة ردالمحتار،كتاب الدعوى،ج:11،ص:678)


فتویٰ نمبر : 3416/297/323

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں