بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/10/2026

دارالافتاء

 

آپس میں گلاسوں کوٹکراکے پانی پینا


سوال

آپس میں گلاسوں کوٹکراکے پانی پینا کیسا ہے؟

جواب

                  واضح رہے کہ ایک مسلمان کے لئے اسلامی تعلیمات یہ ہيں کہ وہ کھانے پینے ،لباس وغیرہ میں ہراس طریقہ سے خود کو بچائے جس میں غیر مسلم یافساق وفجار کے ساتھ مشابہت ہو۔

                   گلاس ٹکراکرپیناچونکہ آج کل غیرمسلم اور فاسق وفاجرلوگوں  کاشعار بن چکاہے ،کہ وہ شراب پیتے وقت آپس میں برتن کوایک دوسرے کے ساتھ ٹکراکر شراب پیتے ہیں،اس لئےان کی مشابہت سےبچتےہوئےاس فعل سے اجتناب لازم ہے۔

 

عن ابن عمر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم(من تشبه بقوم) أي من شبه نفسه بالكفارمثلا في اللباس وغيره، أو بالفساق أو الفجار أو بأهل التصوف والصلحاء الأبرار. (فهو منهم) : أي في الإثم والخير. قال الطيبي: هذا عام في الخلق والخلق والشعار.(مرقاة المفاتيح شرح مشكوة المصابيح،كتاب الباس،ج:7،ص:2782)


فتویٰ نمبر : 5244/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں