بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

غیر کی بیوی سے ناجائز تعلقات بنانے والے سےقطع تعلق کرنے،بدلہ لینےاور بددعا دینےکا حکم


سوال

ایک شادی شدہ عورت رابعہ اپنے ماموں زاد صدام سے بدفعلی کرلیتی ہے ، جبکہ 4سال بعدوہ یہ بات اپنے خاوند رمیض کو بتاتی ہے،  تو رمیض غصے میں اپنی بیوی رابعہ سے کہتاہے کہ اگرتم نےآئندہ اپنے اس ماموں زاد صدام سے ملاقات کی تو تجھ پر ایک طلاق۔ اب اس کے بعدرابعہ نے توبہ کرلی ہے اوررمیض کو بھی بھروسہ ہے کہ یہ سچی توبہ کرچکی ہے۔ اب خودرمیض صدام کو اس وجہ سے اپنا دشمن سمجھ رہاہے کہ اس نے اسے دھوکہ کیوں دیا ، اورہرجگہ اورنمازمیں اس کے لیے بدعاکرتاہے ، جبکہ مزیدبھی ہروقت اللہ تعالی سے صدام کی ذلت ورسوائی کے لیے دعائیں کرتارہتاہے۔ اور اس سے بدلہ لینا چاہتا ہے،اب وہ اس شش وپنج کا شکارہے کہ 1ـکہیں وہ قطع رحمی کا مرتکب تونہیں بن رہا؟ 2ـکیااس کے اس طرح بددعاکرنے سے اسے کینہ اوربغض کا گناہ تونہیں ہورہا؟ 3ـصدام سے بدلہ لینے یا اسے کسی طریقہ نیچادکھانے کے لیے کہیں اللہ تعالی کی ناراضگی کا تو سبب نہیں بن رہا؟ 4ـ کیارابعہ اورصدام دنیااورآخرت میں رمیض کے مجرم ہیں یانہیں ؟ برائے کرم مہربانی فرماکر شرعی نقطہ نظرسے راہنمائی فرمادیں تاکہ رمیض اپنی اصلاح کرسکے ۔

جواب

              واضح رہے کہ اگر کسی آدمی  کے ساتھ ظلم کا معاملہ کیا جائےتو اس کے لیے بہتر یہ ہے کہ وہ صبر کرےاور اللہ تعالی سے اجر کی امید رکھے،اور اگر وہ ظالم کے لیے بددعا کرے تو اس کی گنجائش ہے،تاہم جہاں تک  زنا كا بدلہ لینے کی بات ہےتو شریعت میں زنا کے لیے حد مقرر کردی گئی ہے،جس کو نافذ کرنے کا حق صرف حاکم وقت اور قاضی کو  حاصل ہے۔البتہ ايسے آدمی سے قطع تعلق کی گنجائش ہے۔

               لہذا صورت مسئولہ کے مطابق سائل کے لیےاس شخص سے قطع تعلق جائزہے،البتہ اس سے بدلہ لینےکا حق اس کو حاصل نہیں ہے، نیز اس کو بددعا دینے کی بجائےاس کی اصلاح کی دعا مانگنی چاہیے۔

 

وقال ابن عباس وغيره: المباح لمن ظلم أن يدعو على من ظلمه،وإن صبر فهو خير له،فهذا إطلاق في نوع الدعاء على الظالم. (الجامع لإحكام القرآن للقرطبي،ج:3،ص:1)

عن ابن عمررضى الله عنه أن رسول اللهﷺقال:((لا تمنعوا إماءالله أن يصلين في المسجد)) فقال ابن له :إنا لنمنعهن فغضب غضبا شديدا، وقال أحدثك حديثا عن رسول الله ﷺوتقول إنا لنمنعهن...قوله(إماءالله)أي النساء،قوله:(ابن له) اسمه بلال (فغضب غضبا شديدا)قد جاء أنه سبه وقطع الكلام معه إلى أن مات. (حاشية السندي  على ابن ماجه،باب تعظيم حديث رسول اللهﷺ،ج؛1،ص:11)

وأجمع العلماءعلى أن من خاف من مكالمة أحد و صلته ما يفسد عليه دينه أو يدخل عليه مضرة في دنياه يجوزله مجانبته و بعده. (مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح،كتاب الآداب،ج:8،ص؛3147،دارالفكر)


فتویٰ نمبر : 6581/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں