بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 15/08/2026

دارالافتاء

 

قرض پر نفع اور قسط وار فروخت کرنا


سوال

میں قسطوں پر لین دین کا کاروبار کرتا ہوں  ،مجھ سے ایک شخص نے  30000 ہزار روپے کا موبائل لینے کا مطالبہ کیا میں اپنے ساتھ 31000 روپے   لے کر مارکیٹ گیا وہاں اس شخص کو  37000 روپوں والا موبائل پسند آیا میرے پاس چونکہ 31000 روپے تھے  اس لیے میں نے وہ ادا کیے،باقی چھ ہزار روپے اس نے ادا کیے  اب پوچھنا یہ ہے  کہ میرے لیے  ان 31000 روپے پر منافع لینا جائز ہے یا نہیں ؟

جواب

             کسی چیز کو قسط وار زیادہ قیمت پر اس  شرط کے ساتھ فروخت کرنا جائز ہے کہ مجموعی رقم اور قسطوں کی ادائیگی کی تاریخیں  پہلے سے مقرر ہوں اور  قسط کی ادائیگی  میں تاخیر کی صورت میں   اضافی رقم کا مطالبہ  نہ ہو۔

               صورت مسئولہ میں اگر سائل نے  خوددکان دار  سے موبائل خریدا ہو  اور بعد میں  قسط وارزیادہ پیسوں کے عوض اس شخص پرفروخت کیاہو تو یہ جائز ہے۔اوراگراس شخص نے خود خریدا تھا اور  اکتیس  ہزار 31000 روپے  سائل نے قرض کے طور پر دیے  ہوں تو سائل کے لیے اس  پر منافع لینا سود کی وجہ سے  جائز نہیں ہے۔

 

البیع مع تأجیل الثمن و تقسیطه صحیح ...  یلزم أن تکون المدة معلومةً في البیع بالتأجیل والتقسیط".(شرح المجلة،في بيان المسائل المتعلقة بالبيع بالنسيئة والتأجيل،ج:2،المادة:245،246،ص:166،167)

( كل قرض جر نفعا حرام)،أي إذا كان مشروطا۔(ردالمحتار على الدر المختار،كتاب البيوع،باب المرابحة والتولية،مطلب كل قرض جر نفعا حرام،ج:8،ص:395)

ومن اشترى غلاما بألف درهم نسيئة،فباعه بربح مأة ولم يبين: فإن شاء رده وإن شاء قبل ؛لأن للأجل شبها بالمبيع،ألا يرى أنه يزاد في الثمن لأجل الأجل۔(الهداية،باب المرابحة والتولية،ج:5،ص:161)       


فتویٰ نمبر : 3194/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں