بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

مرد كے ليے چاندی كی انگوٹھی پہننا


سوال

مردوں کے لیے چاندی کی انگوٹھی پہننا جائزہے یا نہیں؟اگر جائز ہے  تو کتنی مقدار تک چاندی کا استعمال جائز ہے اور چاندی کے علاوہ جو انگوٹھیاں لوگ استعمال کرتے ہیں ان کا کیا حکم ہے؟

جواب

             مردوں كے ليے چاندی کی انگوٹھی پہننا جائز ہے جس میں چاندی  کی مقدار ایک مثقال سے کم ہو،  ایک مثقال ساڑھے چار ماشے کے برابر ہے،چاندی کے علاوہ  ،پیتل،لوہےاورتانبے وغیرہ کی انگوٹھی مرد اور عورت دونوں کے لیے مکروہ ہے۔

 

عن عبد الله بن بريدة، عن أبيه، أن رجلا، جاء إلى النبي صلى الله عليه وسلم وعليه خاتم من شبه، فقال له: "ما لي أجد منك ريح الأصنام" فطرحه، ثم جاء وعليه خاتم من حديد، فقال: "ما لي أرىٰ عليك حلية أهل النار" فطرحه، فقال: يا رسول الله، من أي شيء أتخذه؟ قال: "اتخذه من ورق، ولا تتمه مثقالا"(سنن أبي داؤد،باب ما جاء في خاتم الحديد،ج:4،ص:90)

(ولا يتختم) إلا بالفضة لحصول الاستغناء بها فيحرم (بغيرها كحجر) وصحح السرخسي۔۔۔( وذهب وحديد وصفر)۔(ردالمحتار على الدرالمختار،كتاب الحظروالإباحة،ج:9،ص:517)


فتویٰ نمبر : 5228/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں