بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/10/2026

دارالافتاء

 

ترکہ کی غیر تقسیم شدہ زمین بیچنا


سوال

چار ورثاء کے درمیان مشترکہ زمین تھی ا ن میں سے ایک شریک  نے اپنے حصے کی زمین  تقسیم سے پہلےکسی آدمی پر بیچی،حالانکہ اس کو اپنا حصہ معلوم ہی نہ تھا تو کیا یہ بیع  درست ہے؟

جواب

               مشترکہ زمین میں کسی شریک کا اپنا معلوم حصہ(آدھا یا چوتھائی مثلا)اس طور پر بیچناکہ اس کا تعین نہ ہوا ہوفقہاء کی اصطلاح میں بیع المشاع کہلاتا ہے،جو کہ جائز ہےاگر چہ دوسرے شرکاء اس پر راضی نہ ہوں،البتہ شریک کو اپنا حصہ اگر معلوم ہی نہ ہو کہ وہ کتنا ہےتو اس صورت میں مبیع مجہول ہونے کی وجہ سے بیع فاسد ہوگی۔

               لہذاصورت مسئولہ  میں بیچنے والے شریک وارث کے بارے میں اگر اس قدر بات معلوم ہو کہ اس کوپوری زمین کا چوتھائی یا چھٹا حصہ وغیرہ ملے گا تو اس صورت میں مبیع معلوم ہونے کی وجہ سے یہ بیع جائز ہوگی،البتہ اگر ترکہ کی مشترک زمین میں سے اس کا حصہ معلوم ہی نہ  ہوتو  مجہول حصہ فروخت کرنا شرعاجائز نہیں،اس وجہ سے یہ بیع  فاسد ہے ، لہذا اس کا فسخ(ختم)کرنا لازم ہے۔

 

يصح بيع حصة شائعةمعلومةكالنصف والثلث والعشرمن عقار مملوك قبل الإفراز،أما إذا كانت الحصةغير معلومةفالبيع فاسد،فلو قال لرجل:بعتك نصيبي من هذه الدار بكذا، و قبل المشتري ولم يكن عالما بنصيبه لايجوز هذا البيع ، وإن علم جاز...سواء باع من شريكه أو من أجنبي،  ولا يشترط فيه إذن الشريك.(شرح المجلة لسليم رستم باز،الباب الثاني، الفصل الثاني، رقم المادة:214، ص:103)


فتویٰ نمبر : 3204/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں