بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

بیا پہ قسم کہ درلہ رالم الفاظ کہنے سے نکاح پر اثر


سوال

میرا اپنی بیوی کے ساتھ منہ ماری ہورہی تھی، کہ جب بھی آپ گھر پہ آتے ہو، تو  مجھےذلیل کرکے ٹینشن دے کے جاتے ہو، اس سے اچھا ہے تو نہ آیا کر۔ میں نے جواب میں کہا کہ صحیح ہے، میں اس دفعہ جاؤں گا ۔ پھر قسم سے نہیں آؤں گا۔ پشتو میں اس طرح کہا"بیا پہ قسم کہ درلہ رالم"(قسم سے پھر آپ کے پاس نہیں آؤں گا)۔ ابھی اس طرح کہنے سے نکاح پر فرق تو نہیں پڑے گا؟ واضح رہے کہ میں نے جو قسم کھائی وہ صحبت نہ کرنے کی قسم نہیں کھائی تھی، بلکہ میں نے گھر پر نہ آنے کی قسم کھائی تھی؟

جواب

                 جو شخص  آئندہ  کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے کی قسم کھائے تو اس کو یمین منعقدہ کہا جاتاہے۔جب کوئی اس قسم کو توڑ ڈالے تو اس پرقسم کا کفارہ لازم ہو جاتاہے،اور قسم کا کفارہ یہ ہے کہ دس مسکینوں کو صبح شام  دو وقت شکم سیر کھانا کھلادے یا دس مسکینو ں کو ایک ایک جوڑا کپڑا پہنا دے، اور اگر اس کی وسعت نہ ہوتو مسلسل تین روزےرکھے۔ نیز ایسی قسم جس کی وجہ سے قطع رحمی لازم آتی ہو تو اس قسم توڑکرصلہ رحمی کے تقاضے پر عمل کرےاور کفارہ اداکرے۔

                 صورت مسئولہ میں سا ئل کا یہ کہنا''پہ قسم کہ درلہ رالم''قسم کےالفاظ ہیں،لہذاان الفاظ کے کہنے سے نکاح پرکوئی اثر نہیں پڑا ، سائل کو چاہیے کہ گھر میں داخل ہو کر قسم توڑڈالےاور پھر کفارہ ادا کرے۔

 

قال اللہ تعالی:﴿لَا يُؤَاخِذُكُمُ ٱللَّهُ بِٱللَّغۡوِ فِيٓ أَيۡمَٰنِكُمۡ وَلَٰكِن يُؤَاخِذُكُم بِمَا عَقَّدتُّمُ ٱلۡأَيۡمَٰنَ فَكَفَّٰرَتُهُ إِطۡعَامُ عَشَرَةِ مَسَٰكِينَ مِنۡ أَوۡسَطِ مَا تُطعِمُونَ أَهۡلِيكُمۡ أَوۡ كِسۡوَتُهُمۡ أَوۡ تَحۡرِيرُ رَقَبَة فَمَن لَّمۡ يَجِدۡ فَصِيَامُ ثَلَٰثَةِ أَيَّامٖ ذَٰلِكَ كَفَّٰرَةُ أَيۡمَٰنِكُمۡ إِذَا حَلَفۡتُمۡ وَاحۡفَظُوا أَيۡمَٰنَكُمۡ كَذَٰلِكَ يُبَيِّنُ ٱللَّهُ لَكُمۡ ءَايَٰتِهِ لَعَلَّكُمۡ تَشۡكُرُونَ﴾ (المائده:89)

‌واليمين ‌المنعقدة: هي الحلف على الأمر المستقبل أن يفعله أو لا يفعله فإذا حنث في ذلك لزمته الكفارة. (الهداية،كتاب الأيمان،ج:2،ص:476،رحمانيه)

الأيمان مبنية علي العرف إذالم تكن نية فإن كانت، والفظ يحتمله،انعقدت اليمين باعتبارها. (غمز عيون البصائر في شرح الأشباه والنظائر،ج:1، ص:187، دارالكتب العلمية،بيروت،)


فتویٰ نمبر : 6589/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں