بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/08/2026

دارالافتاء

 

طلاق كے الفاظ كہے بغير جبرا طلاق نا مہ پر دستخط کرنے سے طلاق کا حکم


سوال

ایک شخص کو جان سے مارنے کی دھمکی دے کر بازو یا ٹانگ پر گولی مار کر معذور کر دینے کی دھمکی ،اغوا کا جھوٹا مقدمہ کر کے جیل کی دھمکی، اینٹی کرپشن میں جعلی مقدمہ  درج کر کے سرکاری نوکری ختم کر وانے کی دھمکی دے کر زبردستی تحریر ی طلاق پر بغیر نیت وارادے کے دستخط کروانے سے کیا طلاق واقع ہو جاتی ہے یا نہیں ،جبکہ وہ صرف زبانی دھمکیاں نہیں دے رہے تھے ،بلکہ وہ سچ میں ایسا کر گزرتے، جب  کہ وہ شخص سرکاری نوکری کی وجہ سے نا تو کہیں چھپ سکتا تھا اور نا کہیں جا سکتا تھا ، کیونکہ جہاں نوکری کرتا تھا وہاں جا کر سب کے سامنے انہوں نے مارا ،تو اس کو یقین ہوگیا کہ وہ اب اس کو نہیں چھوڑیں گے ،اور اگر وہ کہیں چلا جاتا تو اس کی سرکاری نوکری ختم ہو جاتی ،توا س نےصر ف تحریر ی طلاق پر دستخط کیے،جب   کہ زبان سے طلاق کے الفاظ نہیں بولے مطلب زبانی طور پر طلاق نہیں دی اور نا ہی طلاق کا کاغذ تیار کر وایا ،طلاق کا کاغذ بھی لڑکی والوں نے خود لکھوایا اور س نے صرف دستخط کئے اور کاغذ پر "طلاق طلاق طلاق (ثلاثہ)" لکھا تھا ،تو کیا طلاق واقع ہوئی ہے یا نہیں؟

جواب

                    فقہاے کرام کی تصریحات کے مطابق اگر کسی  شخص کو زبردستی تحریری طلاق دینے پر مجبور کیا جائے، اور وہ با دل نخواستہ طلاق نامہ پر دستخط کرے،لیکن زبان سے کوئی طلاق نہ دے اور نہ ہی  طلاق دینے کا ارادہ ہوتو اس طرح طلاق نامہ پر دستخط کرنے سے کوئی طلاق واقع نہیں ہو تی۔

                   صورت مسئولہ میں اگر واقعی خاوند کو طلاق دینے پرمجبور کیا گیا تھااوردستخط کرتے وقت  نیت طلاق کی نہ تھی اور نہ ہی طلاق کے الفاظ زبان سے کہے ہوں،بلکہ اس سےجبراًتحریری طلاق نامہ پر دستخط کر وا لئے گئےتو اس سے طلاق واقع نہیں ہوئی ا ور بیوی بدستور خاوند کے نکاح میں باقی رہے گی۔

 

وفي البحر أن المراد الإكراه على التلفظ بالطلاق، ‌فلو ‌أكره ‌على ‌أن ‌يكتب طلاق امرأته فكتب لا تطلق لأن الكتابة أقيمت مقام العبارة باعتبار الحاجة ولا حاجة هنا. (رد المحتار على الدر المختار،ج:4،ص:440،دار الفكر،بيروت)

رجل أكره بالضرب ‌والحبس ‌على ‌أن ‌يكتب طلاق امرأته فلانة بنت فلان بن فلان فكتب امرأته فلانة بنت فلان بن فلان طالق لا تطلق امرأته كذا في فتاوى قاضي خان. (الفتاوى الهندية، ج:1، ص:379،دار الفكر،بيوت)


فتویٰ نمبر : 6582/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں