بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/10/2026

دارالافتاء

 

منشیات کی آمدنی سے اداشدہ قرض کے پیسوں کومسجد میں خرچ کرنا


سوال

ایک غیر شادی شدہ آدمی فوت ہوا ہے اس کا ایک مکان تھا ،سب ورثاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ اس کا جو مکان ہے اس کوبیچ کراس کی رقم مسجد کو دیں گے اور اس کےورثاء میں سےکوئی نابالغ بھی نہیں ہے ،چنانچہ سب ورثاء نے متفق ہوکر اس میت کے بڑے بھائی کو متعین کیا کہ یہ مکان  بیچ کراس کا پیسہ مسجدمیں دے گا،  اس بڑے بھائی نے اس مکان کو بیچااور پیسے اپنے پاس رکھے،  اس کےبعد اس بڑے بھائی نے منشیات کا کاروبار شروع کیا،تو ہم اس سے پوچھتے تهےکہ مسجد کا پیسہ کہاں ہے؟  وہ کہتا کہ مسجد کا پیسہ میں نے  علیحدہ رکھا ہوا ہے۔ کچھ عرصہ گزرنے کے بعد ہم نے اس سے کہا کہ وہ پیسے دےدو جو مسجد کے لیے ہیں اور وہ دینا چاہتا ہے۔اب مسئلہ یہ ہےکہ کیا ہم مسجد کے لیے اس سے یہ پیسے لے سکتے ہیں، کیونکہ ہمارا گمان ہے کہ اس نے مسجد کے پیسے منشیات کے کاروبار میں لگائے ہیں۔اور اب وہ  وہی منشیات کی کمائی والےپیسے  ہمیں دے رہا ہے کیونکہ اس کی کمائی بھی صرف منشیات کی ہے، لیکن وہ خود کہتا ہے کہ میں نے مسجد کے لیے پیسے علیحدہ رکھے ہوئے تھے ۔کیاہم اس پر اعتماد کرتے ہوئےیہ پیسہ مسجد کےلیے لے سکتے ہیں یا نہیں ؟

جواب

                فقہاے کرام کی تصریحات کے مطابق قرض کی واپسی اس کے مثل سے کی جائے گی،تاہم نقود (پیسے)چونکہ متعین کرنے سے متعین نہیں ہوتے،لہذا قرض پیسوں کی ادائیگی کے وقت جب   قرض دار  کو اس کے مثل  پیسےدیئے جائیں، تو قرض خواہ کے ذمے سے قرض ساقط ہوجاتا ہے۔نیز قرض خواہ اگرحرام  آمدنی سے قرض ادا کررہا ہو  تو قرض دار کے لیے اس کا لینا مکروہ ہے۔

                 صورت مسئولہ کے مطابق مسجد کے پیسےبڑے بھائی کے ذمے قرض ہیں جن کی ادائیگی اس پر لازم ہے،چنانچہ   اگر اس نے واقعی  مسجد کے پیسے منشیات کے کاروبار میں خرچ نہ کیے ہوں تو ادائیگی کرنے سےاس کے ذمے سے قرض ساقط ہوجائے گا اور ان پیسوں کو مسجد  کے مصالح میں خرچ کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔

 

أن الواجب في باب القرض رد مثل المقبوض.(بدائع الصنائع،كتاب القرض،فصل في شرائط ركن القرض،ج:7،ص:395،دارالكتب العلمية)

النقود ‌لا ‌تتعين في العقود فعند الإطلاق لا يلزمها رد شيء من المقبوض بعينه.(المبسوط للسرخسي،كتاب الزكاة،باب العشر، ج:2،ص:209،دارالمعرفة)

ولو باع مسلم خمرا وأوفى دينه من ثمنها كره لرب الدين أخذه.(مجمع الأنهرفي شرح ملتقى الأبحر، كتاب الكراهية، فصل في البيع،ص:214)


فتویٰ نمبر : 5241/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں