بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/08/2026

دارالافتاء

 

عورت کا چہرے سے بال کاٹنے کا حکم


سوال

میرے  چہرےپرایک نسوانی بیماری کی وجہ سےمونچھیں نکل آئی ہیں،اورباقی چہرےپر بھی زائد بال ہیں۔کیا میں لیزر ٹریٹمنٹ کرواسکتی ہوں،شرعا اس کا کیا حکم ہے؟

جواب

                شریعت مطہرہ کی رو سے اگر عورت کے چہرے پر داڑھی،مونچھیں یا ایسے بال نکل آئے ہو ں جو شوہر کے متنفر ہونے یا بدصورتی کا سبب بنے تو ان کو کاٹنا جائز ہے۔

                 صورت مسئولہ کے مطابق سائلہ اپنی مونچھیں اور دیگر زائد بال چہرے سے کاٹ سکتی ہے،اسی طرح لیزرٹریٹمنٹ بھی کرواسکتی ہے لیکن بہتر یہ ہےکہ کسی غیر محرم کےذریعے نہ ہو،اگرچہ علاج کی بناءپر اس کی بھی گنجائش ہے۔

 

فلو كان في وجههاشعرينفرزوجهاعنهابسببه ففي تحريم إزالته بعد؛لأن الزينه  للنساء مطلوبة۔۔۔وفي تبيين المحارم إزالةالشعرمن الوجه حرام،إلا إذا نبت للمرأه لحية أو شوارب فلاتحرم إزالته بل تستحب.(الدر المختار مع رد المحتار،كتاب الحظر و الإباحة،فصل في النظر و اللمس،ج:9،ص؛536،دار الكتب العلمية)

لايجوز أن ينظر الرجل إلى الأجنبية إلا وجههاوكفيها...فإن كان لا يأمن الشهوة لاينظر إلى وجهها إلا لحاجة(الهداية،كتاب الكراهية،فصل في الوطيء و النظر والمس،ج:4،ص295)


فتویٰ نمبر : 5247/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں