بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

کسی کے چہرے کو دیکھنے کے ساتھ طلاق معلق کرنا


سوال

 اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو کہے کہ "اگرتم نے اپنے بہنوئی کے چہرے کی طرف  دیکھا تو تمہیں  طلاق ہے "  کیا  طلاق معلق کرنے کی یہ صورت زندگی  میں اس کے چہرے کی جانب دیکھنے سے خاص ہو گی یا  بہنوئی وفات ہونے کے بعد بھی  چہرہ  دیکھنے  سےطلاق واقع ہو گی؟

جواب

                اگرشوہربیوی کی  طلاق کو کسی شخص کےچہرے کی جانب  دیکھنے سے   معلق کرے تو  جب بھی وہ عورت اس شخص کے چہرے کی جانب  دیکھےچاہے زندگی میں ہو  یا موت کے بعد   ہو دونوں صورتوں میں بیوی پر طلاق واقع ہوجائے گی۔

                 صورت مسئولہ میں  شوہر نےمذکورہ الفاظ "اگرتم نے اپنے بہنوئی کے چہرے کی جانب دیکھا  تو تمہیں طلاق ہے "سے اپنی بیوی کی طلاق کو بہنوئی کے چہرے کی جانب دیکھنےسے معلق کردیا ہے ،لہذا جب بھی اس کی بیوی بہنوئی کے چہرے کی جانب دیکھے گی تو بیوی پر ایک طلاق رجعی واقع ہو جائیگی ،چاہے وہ زندہ ہو یا مردہ لہذا   بہنوئی کی وفات  کے  بعد بھی  اس کے چہرے کی جانب دیکھنے سے    طلاق واقع ہوگی۔

 

وإذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا مثل أن يقول لامرأته إن دخلت الدار فأنت طالق۔(الفتاوى الهندية،كتاب الطلاق ،الباب الرابع في الطلاق بالشرط ج1،ص:488)

رجل قال إن رأيت فلاناً فامرأته كذا فرآه ميتاً مكفناً قد غطى وجهه حنث والرؤية بعد الموت والرؤية في الحياة سواء۔(فتاوی قاضيخان، فصل في المعرفة والرؤية،ج2،ص66)


فتویٰ نمبر : 6559/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں