بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 20/08/2026

دارالافتاء

 

طلاق کوشرط پرمعلق کرنا


سوال

میں دبئی میں مسافرہوں میں جب آرہاتھاتومیں نےبیوی سےکہاتھاکہ جب تم ماں کےگھرجاؤتوپانچ دنوں سےزیادہ نہ ٹھہرنا،اوراگرپانچ دنوں سےزیادہ ٹھہری توتم مجھ پرطلاق ہوگی۔وہ وہاں بیمارہوگئی اوردس گیارہ دن بعدوہ اپنےگھرآگئی۔اب یہ طلاق ہوئی ہےیانہیں؟رہنمائی فرمائیں۔

جواب

              اگر کوئی شخص طلاق کو کسی شرط کے  ساتھ معلق کرے تو جب بھی شرط پائی جائے گی طلاق واقع ہو گی ۔

              صور ت مسئولہ  میں  اگرخاوند نے بیوی کی طلاق کو والدین کےگھرپانچ دنوں سےزیادہ ٹھہرنے پر معلق کیا تھااور پھر بیوی بیمارہوکروہاں پانچ دن سےزیادہ ٹھہری تو طلاق واقع ہوگئی  ہے۔اور  خاوندنےاگرایک طلاق معلق کی ہوتوایک طلاق رجعی واقع ہوگئی ہے،لہذاعدت کےاندررجوع کرسکتاہے،البتہ عدت گزرنےپرتجدید نکاح کےبغیرمیاں بیوی کی حیثیت سےنہیں رہ سکتے۔

 

واذااضافه الی الشرط وقع عقیب الشرط اتفاقا.(الفتاوی الهندية،كتاب الطلاق،باب الأيمان في الطلاق،ج:1ص:420)

"وإذا طلّق الرجل امرأته تطليقةً رجعيةًّ أو ‌تطليقتين فله أن يراجعها في عدّتها رضيت بذلك أو لم ترض كذا في الهداية".۔(الفتاوى الهندية،كتاب الطلاق،الباب السادس في الرجعة،ج:1،ص:470،رشيدية)


فتویٰ نمبر : 6567/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں