بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

نکاح سے پہلے سپرم(Sperm) ٹیسٹ کرنے کا حکم


سوال

 بعض علاقوں میں نکاح سے پہلے مادہ منویہ کو چانچنے کے لیے(Semen Analysis) ٹیسٹ کیا جاتا ہے تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ مرد میں نکاح کے بعد بچہ پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہے یا نہیں، اگر کوئی مسئلہ ہو تو علاج کرنے تک نکاح مؤخر کر دیا جاتا ہے، اس ٹیسٹ کے لیے مرد اپنے ہاتھ سے منی نکالتے ہیں اور پھر لیبارٹری میں اس کا ٹیسٹ ہوتا ہے۔ کیا اس طرح ٹیسٹ کے لیے ہاتھ سے منی نکالنا جائز ہے؟

جواب

                    استمنا باليد(ہاتھ سے منی خارج کرنا) جب شہوت کو ابھارنے اور لذت حاصل کرنے کے لیے کیا جائےتو یہ مکروہ تحریمی ہے لیکن اولاد نہ ہونے کی صورت میں مرد کے مادہ منویہ کی صلاحیت جاننے کے لیے برائے تجزیہ اس کی گنجائش ہے کیونکہ اس سے مقصد شہوت ابھارنا اور لذت حاصل کرنا نہیں ہوتا۔ البتہ نکاح کے کچھ عرصے تک اولاد نہ ہونے کی صورت میں ماہر ڈاکٹر کے مشورے سے اگر ٹیسٹ کیا جائے تو بہتر ہے، نکاح سے پہلے ایسے توہمات سے بچنا چاہیے کیونکہ اس ٹیسٹ میں یقینی طور پر نتیجہ نہیں ہوتا بلکہ اندازے کے مطابق تجزیہ کیا جاتا ہے۔

                   صورت مسؤلہ کے مطابق کسی علاقے میں اگر نکاح سے پہلے یہ ٹیسٹ کیا جاتا ہے تو ایسا کرنا ایک غیر ضروری فعل ہے، اور استمنا بالید کی گنجائش حاجت کے وقت ہے جب کہ بغیر کسی ضرورت کے ایسے فعل سے احتراز لازم ہے۔

 

وكذا الاستمناء بالكف وإن كره تحريما لحديث «ناكح اليد ملعون» ولو خاف الزنى يرجى أن لا وبال عليه۔ (الدر المختار على صدر ردالمحتار، كتاب الصوم، باب ما يفسد الصوم وما لايفسده، ج:3، ص:371)

(قوله الاستمناء حرام) أي بالكف إذا كان لاستجلاب الشهوة، أما إذا غلبته الشهوة وليس له زوجة ولا أمة ففعل ذلك لتسكينها فالرجاء أنه لا وبال عليه كما قاله أبو الليث، ويجب لو خاف الزنا (قوله كره) الظاهر أنها كراهة تنزيه۔ (رد المحتار،كتاب الحدود، باب الوطء الذي يوجب الحد والذي لا يوجبه، ج:6، ص:38)


فتویٰ نمبر : 6560/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں