بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

عورت کے لیے چاندی کے کپڑےیا چپل پہننا


سوال

جن كپڑوں ميں  چاندی لگی ہو ايسے كپڑوں كا عورت کے لیے  پہننا کیسا ہے؟اسی طرح  عورت كے ليے چاندی کے چپل پہننا کیسا ہے ؟

جواب

               عورت کو زیب وزینت اختیار کرنے کے لیے سونے چاندی سے بنے ہوئے زیورات یاان سے بنی ہوئی ہر وہ چیز جس کو زینت کے طور پر پہنا جائے جائزہے۔بشرطیکہ اس کے پہننے سے ریا اور تفاخر مقصود نہ ہو۔

            صورت مسئولہ کے مطابق عورت کے لیے چاندی لگے ہوئے کپڑےپہننا یا چپل کے استعمال کی گنجائش ہے، تاہم اس سے اجتناب بہتر ہے کہ بظاہر اسراف کی علامت ہے۔

 

(قوله للرجل والمرأة) قال في الخانية: والنساء فيما سوى الحلي من الأكل والشرب والادهان من الذهب والفضة والعقود بمنزلة الرجال، ولا بأس لهن بلبس الديباج والحرير والفضة واللؤلؤ.(رد المحتار على الدر المختار،كتاب الحظر والإباحة،باب في استعمال الذهب والفضة،ج:6،ص:341)

والحاصل:أن كل ماكان على وجه التكبر يكره،وإن فعل لحاجة وضرورة لا،هو المختار.(الفتاوى الهندية،كتاب الكراهية،الباب العشرون:في الزينة...ج:5،ص:415)

يجوز للنساء لبس أنواع الحلي كلها من الذهب، والفضة، والخاتم، والحلقة، والسوار، والخلخال، والطوق، والعقد، والتعاويذ، والقلائد وغيرها، وفي جواز لبسهن نعال الذهب والفضة وجهان:أحدهما: الجواز كسائر الملبوسات، والثاني: التحريم للإسراف.(إعلاءالسنن،كتاب الحظر والإباحة،باب حرمة الذهب على الرجال وحله للنساء،ج:17،ص:317)


فتویٰ نمبر : 5250/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں