بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/10/2026

دارالافتاء

 

داڑھی رکھنے کی شرعی حیثیت


سوال

داڑھی رکھنا شرعا سنت،واجب یا مستحب ہے اور اس کی رکھنے پر صحیح قرینہ کیا ہے؟

جواب

                 داڑھی تمام انبیائے کرام علیہم الصلوات والتسلیمات کی سنت، مسلمانوں کا قومی شعار اور  مرد کی فطری اور طبعی چیزوں میں سے ہے، ا سی لیے رسول اللہ ﷺ نے اس شعار کے  اپنانے کی اپنی امت کو ہدایت دی ہے اور اس کے رکھنے کا  حکم دیا اس لیے داڑھی رکھنا ہر مسلمان پر واجب ہے، نیز بعض صحابہ رضی اللہ عنھم سے ایک مٹھی تک رکھنا اور اس سے زائد بالوں کا کاٹنا منقول ہے، اس لیے فقہائے احناف کے ہاں ایک مٹھی داڑھی رکھنا ضروری اور واجب ہے، جب کہ اس سے زائد کو کاٹنے میں کوئی حرج نہیں اور ایک مٹھی سے کم کرنا چونکہ کسی سے ثابت نہیں، اس لیے یہ حرام ہے ۔  

 

عن نافع، عن ابن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: " خالفوا المشركين: وفروا اللحى، وأحفوا الشوارب " وكان ابن عمر: إذا حج أو اعتمر قبض على لحيته، فما فضل أخذه۔(الصحيح للبخاري، كتاب اللباس، باب قص الشارب، ج:2، ص:875)

والقص سنة فيها وهو أن يقبض الرجل لحيته فإن زاد منها على قبضته قطعه كذا ذكر محمد - رحمه الله تعالى - في كتاب الآثار عن أبي حنيفة - رحمه الله تعالى۔(الفتاوی الهندية،كتاب الكراهية،الباب التاسع عشرفي الختان،والخصاء ۔۔۔ج:5،ص:414)

وأما الأخذ منها وهي دون ذلك كما يفعله بعض المغاربة، ومخنثة الرجال فلم يبحه أحد، وأخذ كلها فعل يهود الهند ومجوس الأعاجم۔(ردالمحتار على الدرالمختار، كتاب الصوم، باب ما يفسد الصوم، مطلب في الأخذ من اللحية، ج:3، ص:398)


فتویٰ نمبر : 5237/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں