بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 15/08/2026

دارالافتاء

 

حضرت فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہاکے بارے میں چند احادیث کی تحقیق


سوال

 روافض شیعہ اثنا عشریہ کے مناظر علماء و محققین تین جمادی الثانی کو سیدہ کائنات فاطمۃ الزہرا  رضی اللہ عنہا کا یوم شہادت باقاعدگی سے مناتے ہیں۔ ان کا مؤقف یہ ہے کہ سیدہ فاطمۃ الزہرا   رضی اللہ عنہا کی وفات طبعی نہیں تھی ،بلکہ ان کو شہید کیا گیا تھا ، اس ضمن میں وہ روافض کی کتب حدیث کے ساتھ ساتھ اہل سنت کی ایک کتاب سے بھی دلیل پیش کرتے ہیں ،جس کا حوالہ یہ ہے:  إبن أبي شيبة الكوفي، أبو بكر عبد الله بن محمد (متوفی235 هـ)، الكتاب المصنف في الأحاديث والآثار، ج 7، ص 432، ح37045، کتاب المغازي، باب ما جاء في خلافة ابي بکر وسيرته في الردة، تحقيق: كمال يوسف الحوت، ناشر: مكتبة الرشد - الرياض، الطبعة: الأولى، 1409هـ. اس کےعلاوہ وہ یہ دعوی بھی کرتے ہیں کہ سیدہ  فاطمہ الزہرا   رضی اللہ عنہا کے جنازہ میں شرکت سے شیخین رضی اللہ عنہما کو سختی سے روک دیا گیا تھا، اسی وجہ سے سیدہ فاطمۃ الزہرا   رضی اللہ عنہا  کا جنازہ رات کی تاریکی میں ہوا اور شیخین رضی اللہ عنہما   کو جنازہ کی اطلاع دی ہی نہیں گئی، جیسے کہ سیدہ فاطمۃ الزہرا   رضی اللہ عنہا نے وصیت فرمائی تھی ۔ اس کی دلیل  رافضی شیعہ مناظر علماء صحیح بخاری  کی احادیث:4240 اور 4241 پیش کرتے ہیں ۔ آپ کی خدمت اقدس میں عاجزانہ التجا ہے کہ ان تینوں احادیث  كے بارے میں اہل سنت کے قدیم ترین محدثین عظام کی علمی تحقیقات پیش فرما دیجئے۔

جواب

                  سوال میں پیش کردہ احادیث میں سے جہاں تک مصنف ابن ابی شیبہ کی روایت کا تعلق ہے، تو اس میں بنیادی طور پر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خلافت کے دوران ایک واقعے کا بیان ہے، جس میں ایسی کوئی بات  صراحتاً ذکر ہے نہ اشارۃً ، جس سے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی شہادت پر استدلال کیا جاسکتا ہو۔

                 جہاں تک صحیح بخاری کی احادیث کا تعلق ہے، تو ان میں چند جملے اور الفاظ ایسے ہیں ،جو ظاہر ی معنی کے اعتبار سے موجب اعتراض ہیں، لہذا ان روایات کے بارے میں قدماء محدثین کی آراء درج ذیل ہیں:

 ۱۔ فوجدت فاطمة على أبي بكر في ذلك: علامہ کرمانیؒ لکھتے ہیں کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ حضرت فاطمہؓ نے غصے کا اظہار کیا، تاہم آپ رضی اللہ عنہا سے اس کا صدور بتقضاے بشریت تھا  اورآپ رضی اللہ عنہا کا غصہ  بعد میں ختم ہوا، یا آپ رضی اللہ عنہا کے ہاں حدیث (لا نورث، ما تركنا صدقة) کا مطلب یہ تھا کہ جو مال ورثاء کی معاشی ضروریات سے باقی رہ جائے وہ صدقہ ہے، اس لیے آپؓ نے غصے کا اظہار فرمایا۔

۲۔ فهجرته فلم تكلمه حتى توفيت:  علامہ عینیؒ یہاں فرماتے ہیں کہ "ہجران" سے شریعت میں حرام کردہ"ہجران" جیسا كہ سلام چھوڑنا وغیرہ مراد نہیں ، بلکہ اس سے مراد حضرت فاطمہؓ کا حضرت صدیق اکبرؓ سے اپنے آپ کو روکنا اور ان سے خوش طبعی نہ کرنا ہے۔ علامہ نوویؒ نے لکھا ہے کہ بات چیت نہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ حضرت فاطمہؓ نے اس مخصوص معاملے(میراث) میں حضرت صدیق اکبرؓ سے پھر کوئی گفتگو نہیں فرمائی۔

۳۔ فلما توفيت دفنها زوجها علي ليلا، ولم يؤذن بها أبا بكر وصلى عليها: حافظ ابن حجرؒ لکھتے ہیں کہ حضرت  فاطمہؓ نے وصیت فرمائی تھی کہ انہیں رات کے وقت دفنایا جائے ، تاہم اس طرح کرنے سے آپ رضی اللہ عنہا کا ارادہ  یہ تھا کہ پردے کا زیادہ اہتمام  ہوجائے۔ نیز  حضرت علیؓ نے حضرت ابوبکر صدیقؓ کو اطلاع  اس لیے نہیں دی ، کہ آپؓ کا گمان تھا کہ حضرت فاطمہؓ کی موت کی خبر حضرت صدیق اکبرؓ پر مخفی نہیں رہے گی، علاوہ ازیں حدیث میں ایسی کوئی بات نہیں کہ حضرت صدیق اکبرؓ حضرت فاطمہؓ کےموت سے بے خبر تھے اور  نہ ہی یہ تذکرہ ملتا ہے کہ آپؓ نے حضرت فاطمہؓ پرنمازِ جنازہ نہیں پڑھی ہے۔

 

محمد بن بشر ، نا عبيد الله بن عمر ، حدثنا زيد بن أسلم ، عن أبيه أسلم أنه حين ‌بويع لأبي بكر بعد رسول الله صلى الله عليه وسلم كان علي والزبير يدخلان على فاطمة بنت رسول الله صلى الله عليه وسلم فيشاورونها ويرتجعون في أمرهم ، فلما بلغ ذلك عمر بن الخطاب خرج حتى دخل على فاطمة فقال: «يا بنت رسول الله صلى الله عليه وسلم ، والله ما من أحد أحب إلينا من أبيك ، وما من أحد أحب إلينا بعد أبيك منك ، وايم الله ما ذاك بمانعي إن اجتمع هؤلاء النفر عندك ; أن أمرتهم أن يحرق عليهم البيت» ، قال: فلما خرج عمر جاءوها فقالت: تعلمون أن عمر قد جاءني وقد حلف بالله لئن عدتم ليحرقن عليكم البيت وايم الله ليمضين لما حلف عليه ، فانصرفوا راشدين ، فروا رأيكم ولا ترجعوا إلي ، فانصرفوا عنها فلم يرجعوا إليها حتى بايعوا لأبي بكر. (الكتاب المصنف في الأحاديث والآثار، ج:7، ص:431، ‌‌ما جاء في خلافة أبي بكر وسيرته في الردة، رقم الحديث: 37045، مكتبة العلوم والحكم، المدينة المنورة)

(وجدت )أي غضبت وكان ذلك أمرا حصل على مقتضى البشرية ثم سكن بعد ذلك أو الحديث كان مؤولا عندها بما فضل عن ضرورات معاش الورثة. (الكواكب الدراري، ج:16، ص:111،112، دار إحياء التراث العربي، بيروت)

ومعنى هجرانها انقباضها عن لقائه وعدم الانبساط لا الهجران المحرم من ترك السلام ونحوه. (عمدة القاري، ج:17، ص:258، دار إحياء التراث العربي، بيروت)

قوله في هذا الحديث (فلم تكلمه) يعني في هذا الأمر. (شرح النووي على مسلم، ج:12، ص:73، دار إحياء التراث العربي، بيروت)

ومن عدة طرق أنها دفنت ليلا وكان ذلك بوصية منها لإرادة الزيادة في التستر ولعله لم يعلم أبا بكر بموتها لأنه ظن أن ذلك لا يخفى عنه وليس في الخبر ما يدل على أن أبا بكر لم يعلم بموتها ولا صلى عليها. (فتح الباري، ج:7، ص:494، دار المعرفة، بيروت)


فتویٰ نمبر : 5254/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں