بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

چہرےکاشرعی پردہ


سوال

ایک لڑکی ہےوہ کسی دفترمیں جاب کرتی ہے،اورپردہ کرکےچہرےکانقاب کرتی ہےتوان کاجوبڑاسرہےوہ ان سے کہتےہےکہ آپ یہ پردہ کیوں کرتی ہے؟چہرےکا،اسلام میں توچہرےکاپردہ نہیں اگرہےبھی توصرف  شادی شدہ عورتوں کےلیےہیں،لڑکیوں کےلیےنہیں۔وہ یہ بھی کہتےہیں کہ حج جیسےاہم فریضےمیں بھی عورت کےلیےچہرہ چھپاناٹھیک نہیں تویہاں کیسے ہوگا؟وہ شخص  ظاہری طورپربڑا علم رکھتےہیں اوربطورتاویل قرآن پاک سےبھی کچھ ثبوت وغیرہ اخذکرتےہیں،اورحدیث کےبارےمیں یہ شخص کہتےہیں کہ یہ اب ضعیف ہوگئی ہیں۔اب ان کوہم بطوردلیل نہیں مان سکتے؛کیونکہ اللہ پاک نےاس کی حفاظت کاذمہ نہیں لیاہے،صرف قرآن پاک کی حفاظت کاذمہ لیاہے۔اورمکروہ کی تعریف اس طرح کرتےہیں کہ وہ چیزجوانسان کی طبیعت کوناسازلگے۔اب یہ بےچاری لڑکی اس شخص کےسامنےحیران وپریشان ہےکہ اس کو کس طرح جواب دےکربتادےکہ اسلام میں عورت کےلیےچہرہ چھپانالازمی ہے۔تولہذااب آپ سےدرخواست کی جاتی ہےکہ فتوی کی شکل میں تفصیلی جواب دےکرقرآن وحدیث سےاس پرروشنی ڈالیں؟

جواب

            عورت کے چہرے کا پردہ نصوص سے ثابت ہے۔اللہ تعالی کاارشادہے:

(1)واذا سألتموهن متاعاً فاسئلوهن من وراء حجاب۔(سورۃ الأحزاب:53)

ترجمہ:اورجب تمھیں نبی کی بیویوں سےکچھ مانگناہوتوپردےکےپیچھےسےمانگو۔

دوسری جگہ ارشادہے:

(2)يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُل لِّأَزْوَاجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِن جَلَابِيبِهِنَّ ۚ ذَٰلِكَ أَدْنَىٰ أَن يُعْرَفْنَ فَلَا يُؤْذَيْنَ (سورة الأحزاب:59)

ترجمہ:اےنبی  !تم اپنی بیویوں،اپنی بیٹیوں اورمسلمانوں کی عورتوں سےکہہ دوکہ وہ اپنی چادریں اپنے(منہ کے)اوپرجھکالیاکریں۔

                اس آیت کی تفسیرمیں ابن عباس رضی اللہ عنہماسےمنقول ہےکہ"عورت بڑی چادراپنی پیشانی کےاوپرڈال لےگی اوراس کوباندھ کرناک پرپھیرےگی اگرچہ اس کی آنکھیں کھلی رہیں لیکن سینےاورچہرےکااکثرحصہ ڈھانپ لےگی،اورایک دوسری روایت میں ابن عباس رضی اللہ عنہماسےابن جریر،ابن ابی حاتم اورابن مردویہ نےنقل کیاہےکہ اپنےچہرےکوسرکےاوپرسےبڑی چادرکےذریعےڈھانپ لےگی اورصرف ایک آنکھ کھلی رکھےگی۔"(تفسير الألوسي،روح المعاني،ج:11،ص:264)

(3)عن عائشة قالت كان الركبان يمرون بنا ونحن مع رسول الله -صلى الله عليه وسلم- محرمات فإذا حاذوا بنا سدلت إحدانا جلبابها من رأسها إلى وجهها فإذا جاوزونا كشفناه.(سنن أبي داؤد،باب في المحرمة تغطي وجهها،ج:2،ص:104،رقم الحديث:1835)

ترجمہ:حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہاسےروایت ہےفرماتی ہیں کہ:ہم پرمسافروں کےقافلےگزرتےتھے،اورہم حضورﷺکےساتھ سفرمیں حالت احرام میں ہوتی تھیں ،پس جب وہ مسافرہماری محاذات میں آتےتھےتوہم اپنےسرکی چادروں کونیچےسرکاکرچہرےپرکرلیتے تھے پھرجب وہ قافلےگزرجاتےتوہم اپناچہرہ کھول لیتے۔

خیر القرون میں جب ازواجِ مطہرات اور صحابیات رضوان اللہ علیہن کو چہرے کے پردے کا حکم تھا اور انہوں نے اس کا اہتمام کیا تو اس دور میں بدرجہ اولیٰ مؤمنات کو چہرے کے پردے کا اہتمام لازم ہے۔ 


فتویٰ نمبر : 5226/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں