بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

میت کی گاڑی کے سامنے بکری ذبح کرنا


سوال

میت کی گاڑی کے سامنے بکری ذبح کرکے اس کا کھاناجائز ہے یا نہیں؟

جواب

              واضح رہے کہ جس جانور کے  ذبح کرنے سے مقصود  غیراللہ کی تعظیم ہو اور اسے باعث ثواب سمجھا جائے ،ایسا جانور حرام ہے اگرچہ ذبح کے وقت اس پر اللہ کا نام لیا جائے۔لیکن جہاں  پرغیراللہ کی تعظیم و تقرب مقصود نہ ہو  اور جانور  شرعی ضوابط کے مطابق ذبح کیا  جائے تو اس کا  کھانا جائز ہے۔

               لہذا صورت مسئولہ کے مطابق  میت کی گا ڑی کے سامنےبکری ذبح کرنا ایک علاقائی  رسم کے طور پر ہوتا ہے،غیراللہ کی تعظیم یا تقرب مقصود نہیں ہوتا،لہذا اگر اس موقع پر بکری کا ذبح کرنا کسی غلط عقیدے پر مبنی   نہ ہو، بلکہ محض رسم و رواج  کے طور پر ہو، اور ذبح کے وقت اس پر اللہ  تعالی کا نام لیا جائے تو اس جانور کا گوشت حلال ہے،تاہم چونکہ یہ ایک لایعنی رسم ہےاس لیے اس سے اجتناب کرنا چاہیے۔اور اگر کہیں نفع رسانی کے لیے مؤثر بالذات سمجھ کر اس کا التزام کیا جاتا ہواور اس کے نہ کرنے میں  بد شگونی کا تصور ہو  تو اس کے ناجائز ہونے میں  کوئی شبہ نہیں اور اس کا ترک لازم  ہوگا۔

 

(و لو ذبح  لقدوم الأميرو نحوه )كواحد من العظماء( يحرم) لأنه أهل به لغيرالله (و لو )وصلية (ذكر اسم الله تعالى،ولو) ذبح (للضيف لا )يحرم.(الدر المختار مع ردالمحتار،كتاب الذبائح،ج:9،ص:449)

وأصله فيما يقال: التطير بالسوانح والبوارح من الطيروالظباء و غيرهما،وكان ذالك يصدهم عن مقاصدهم، فنفاه الشرع و أبطله و نهاهم عنه و أخبر أنه ليس له تأثير في جلب نفع و دفع ضر.(مرقاةالمفاتيح،كتاب الطب والرقى،ج:8،ص:341)


فتویٰ نمبر : 5222/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں