بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 19/10/2026

دارالافتاء

 

حاملہ مطلقہ کاحمل سےپہلے کاخرچہ


سوال

اگرایک شخص اپنی 6یاسات ماہ کی حاملہ بیوی کوطلاق دےدےتوبیوی کاحمل سےپہلےزمانےوالےکاخرچہ شوہرپرہوگایانہیں؟

جواب

              واضح رہےکہ اگرشوہرنےحمل سےپہلےوالےزمانےمیں بیوی کونان ونفقہ دیاہوتوشوہرپردوبارہ نفقہ دینالازم نہیں ہے۔اوراگرحمل سےپہلےکچھ عرصےکاخرچہ  شوہرنے اپنی بیوی  کو نہیں دیا تھا تو اس کے متعلق حکم یہ ہے کہ پہلے سے اگر عدالت نے وہ نان نفقہ متعین کیا تھا یا میاں بیوی نے آپس کی رضامندی سے طے کیا تھا تو اس صورت میں بیوی اپنے شوہر سے حمل سےپہلےوالے زمانےکے خرچے کا مطالبہ کرسکتی ہے اورشوہر کے ذمہ  حمل سےپہلےوالےزمانےکاخرچہ قرض ہے  اور اگر پہلے سے عدالت کی طرف سےوہ  خرچہ متعین نہیں تھا اور نہ میاں بیوی نے آپس کی رضامندی سے طے کیا تھا تو ایسی صورت میں بیوی اپنے شوہر سے حمل سےپہلےوالےزمانےکے خرچے کا مطالبہ نہیں کرسکتی اور نہ ہی شوہر پر وہ خرچہ ادا کرنا لازم ہے۔

 

"ولو خاصمته امرأته في نفقة ما مضى من الزمان قبل أن يفرض القاضي عليه لها النفقة لم يكن لها شيء من ذلك عندنا. وعلى قول الشافعي - رحمه الله تعالى - يقضى لها بما لم تستوف من النفقة الماضية. وأصل المسألة أن النفقة لا تصير دينا إلا بقضاء القاضي، أو التراضي عندنا. وعند الشافعي تصير دينا...وحجتنا في ذلك أن النفقة صلة والصلات لا تتأكد بنفس العقد ما لم ينضم إليها ما يؤكدها، كالهبة والصدقة من حيث إنها لا تتم إلا بالقبض..فعرفنا أن طريقه طريق الصلة، وتأكدها إما بالقضاء، أو التراضي ولأن هذه نفقة مشروعة للكفاية فلا تصير دينا بدون القضاء، كنفقة الوالدين والمولودين لا تصير دينا بمجرد مضي الزمان فكذا هنا."(المبسوط للسرخسي،كتاب النكاح، باب النفقة، ج:5،ص:184،دارالمعرفة)      


فتویٰ نمبر : 6562/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں