بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 19/10/2026

دارالافتاء

 

مدرسہ کے لیے وقف شدہ زمین کو تبدیل کرنا


سوال

ایک شخص نے مدرسہ  کے لیے پانچ مرلہ زمین وقف کی جو کہ انتظامی امورچلانے کے لیے  ناکافی ہےاور ابھی تک اس پر عمارت وغیرہ بھی نہیں بنائی گئی ہے اور اس زمین  کے قریب اور زمین نہیں مل رہی   تاکہ مزید زمین خریدی جاسکے تو کیا ہم اس جگہ کو دوسری جگہ سے تبدیل کرنےیا اس زمین  کو  فروخت  کرکے  اس کی بجائے دوسری جگہ زمین خرید سکتے ہیں یا نہیں؟

جواب

              واضح رہے کہ   وقف تام ہونے کے لیے شرط یہ ہے کہ موقوفہ چیز جس مقصد کے لیے وقف کی گئی ہو ،اس میں کم سے کم ایک مرتبہ استعمال ہوجائے، چنانچہ مدرسہ کے لیے وقف کی گئی زمین  کا وقف اس وقت  تام  متصور ہوگا جب اس میں تعلیمی سلسلہ شروع ہوجائے۔

                صورت مسؤلہ میں اگر کسی شخص  نے 5 مرلہ زمین مدرسہ کے لیے وقف کی ہوجو کہ تعلیمی سلسلے  کے لیے نا کافی ہو اور اس میں ابھی تک تعلیم  وغیرہ کا سلسلہ شروع نہ ہو ا ہو تو وقف تام نہ  ہونے کی وجہ سے اس جگہ کو دوسری جگہ سے تبدیل کرنے یا اس زمین کو فروخت کرکے مدرسہ کے لیے کوئی اور زمین   خریدنے میں شرعا کو ئی  حرج  نہیں ہے۔

 

(ويزول ملكه عن المسجد والمصلى) بالفعل و (بقوله جعلته مسجدا) عند الثاني (وشرط محمد) والامام (الصلاة فيه)۔۔۔لأنه لابد من التسليم عندهما خلافا لأبي يوسف وتسليم كل شيئ بحسبه،فيفي المقبرة بدفن واحد وفي السقاية بشرية وفي الخان بنزوله كما في الإسعاف واشتراط الجماعة لأنها المقصود ة من المسجد۔(الدرالمختار مع رد المحتار،كتاب الوقف،ج:6،ص:546)


فتویٰ نمبر : 5210/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں