بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

فرض کی آخری دو رکعتوں میں سورت پڑھنا


سوال

 اگر ایک شخص نے فرض نماز کی  چار رکعتوں میں سورۃ فاتحہ کے بعد کوئی سورۃ بھی پڑھ لی ہو توکیا یہ نماز ہوگئی ہے یا قضا کرے گا؟

جواب

              چار رکعت والی فرض نماز کی آخری دو رکعتوں میں اور مغرب کی تیسری رکعت میں سورۃ فاتحہ پر اکتفاء کرنا سنت ہے سورۃفاتحہ کے بعد سورت نہ ملانا سنت ہے اگر سورت ملادی تو سجدہ سہو واجب نہیں ہوگا تا ہم اس کی عادت بنالینا خلاف اولیٰ اور غیر مناسب ہے۔

 

ولو قرأ في الأخريين الفاتحة والسورة لا يلزمه السهو وهو الأصح. (فتاوی هندية، كتاب الصلاة، الباب الثانی عشر فی سجود السهو، ج:1، ص:126)

(واكتفى) المفترض (فيما بعد الأوليين بالفاتحة) فإنها سنة على الظاهر، ولو زاد لا بأس به (قوله ولو زاد لا بأس) أي لو ضم إليها سورة لا بأس به لأن القراءة في الأخريين مشروعة من غير تقدير والاقتصار على الفاتحة مسنون لا واجب فكان الضم خلاف الأولى وذلك لا ينافي المشروعية. ( الدرالمختار مع ردالمحتار، کتاب الصلوة، فصل في بيان تأليف الصلاة إلى انتهائها، ج:1، ص:511)


فتویٰ نمبر : 9335/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں