بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 21/10/2026

دارالافتاء

 

منگنی میں شرط لگانا


سوال

 لڑکے اور لڑکی کے درمیان صرف منگنی ہوئی ہے،اب لڑکی  لڑکے کے ساتھ اس رشتے کو ختم کرنا چاہتی ہے،جب کہ لڑکا اس پر راضی نہیں ہے اور انہوں نے لڑکی کے گھر والوں سے کہا کہ میں ایک شرط پر اس کو چھوڑ دوں گا کہ یہ ہمارے علاقے میں کسی اور مرد کے ساتھ نکاح نہیں کرے گی۔ کیا  لڑکے کی طرف سےیہ شرط لگانا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

                 شرعی نقطۂ نظر سے  منگنی  میں  اگر باقاعدہ  ایجاب و قبول نہ ہوا ہو،تو اس کی حیثیت وعدہ نکاح  کی ہے ،لہذا جانبین میں سے ہر ایک کے لیے اس وعدے کو پورا کرنا چاہیے،اور کسی واقعی عذر کے بغیر وعدہ خلافی سے بچنا ضروری ہے۔

                  صورت مسئولہ کے مطابق اگر لڑکے اور لڑکی کے مابین واقعی صرف منگنی ہوئی ہوتو لڑکی کو چاہیے کہ وہ اس  کی پاسداری کرکے لڑکے سے نکاح کرے،تاہم اگر لڑکی کسی صحیح عذر کی بنا پر اس سے نکاح کرنے پر راضی نہ ہو تو اس کو دوسری جگہ نکاح کرنے کی اجازت ہے،لہذا لڑکے کی جانب سے کسی قسم کی شرط لگانا درست نہیں ہے۔البتہ بغیر کسی عذر کے اس رشتے کو ختم کرنے  کی صورت میں وعدہ خلافی کی وجہ سے یہ لڑکی گناہ گار ہوگی۔

 

قال اللہ تعالیٰ:﴿ وأوفوا بالعهد إن العهد كان مسئولا﴾(بني اسرائيل:34)

وقال الآلوسي في تفسير هذه الآية: ما عاهدتم الله تعالى عليه من التزام تكاليفه وما عاهدتم عليه غيركم من العباد. (روح المعاني،ج:8، ص:69)

‌الخلف ‌في ‌الوعد حرام.(الأشباه والنظائرلابن نجيم،ص:247)

وقال ابن عابدين:قال في شرح الطحاوي:لو قال هل أعطيتنيها فقال:أعطيت إن كان المجلس للوعد فوعد ،وإن كان للعقد فنكاح.(ردالمحتار على الدرالمختار،كتاب النكاح،ج:3، ص:11 )


فتویٰ نمبر : 6588/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں