بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 21/10/2026

دارالافتاء

 

منگنی کی شرعی حیثیت


سوال

اگرمنگنی میں مہرمقررکیاجائےلیکن باقاعدہ ایجا ب وقبول نہ ہوتوکیا اس سےنکاح منعقد ہوگی؟یایہ وعدہ نکاح ہوگی؟

جواب

               شرعی نقطہ نظرسے دوگواہوں کی موجودگی میں  ایجاب وقبول سے نکاح منعقد ہو جاتا ہے، ان کے بغیر نکاح منعقد نہیں ہوتا، مروجہ منگنی   میں  اگرباقاعدہ نکاح کاایجاب وقبول نہ ہواہوتواس کی حیثیت محض وعدہ نکاح کی ہوگی۔

 

  لو قال هل أعطيتنيها فقال أعطيت إن كان المجلس للوعد فوعد، وإن كان للعقد فنكاح.(الدرالمختارمع ردالمحتار، كتاب النكاح، ج:4،ص:73)

الخطبة مجرد وعد بالزواج، وليست زواجاً ، فإن الزواج لا يتم إلا بانعقاد العقد المعروف، فيظل كل من الخاطبين أجنبياً عن الآخر، ولا يحل له الاطلاع إلا على المقدار المباح شرعاً وهو الوجه والكفان۔(الفقه الاسلامي وادلته، خامسا۔ مايترتب علی الخطبة، ج:9، ص:6492)


فتویٰ نمبر : 6555/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں