بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

میاں بیوی کا ایک دوسرے کی شرمگاہ کو چاٹنا


سوال

میاں کے لیے  بیوی کی شرم گاہ کو چاٹنا اور چٹوانا  گناہ کبیرہ ہے یا مکروہ ہے؟

جواب

                 واضح رہے کہ   میاں بیوی کا آپس میں ایک  دوسرے کی شر مگاہ کو چاٹنا  غیر شریفانہ اور غیر مہذب عمل ہے ،شریعت میں جماع کرتے وقت کچھ آداب ہیں ،مثلا بقدر ضرورت ستر کھولا جائے ،با لکل  ننگاہ ہو کر جماع نہ کیا جائے اور نہ ایک دوسرے کی شرم گاہ کو بلا ضرورت دیکھا جائے ،چہ جائے کہ چاٹا  جائے ،لہذا چاٹنا ایک غیر اخلاقی  اور نا مناسب عمل ہے اور اس طرح  نجاست کو منہ میں لے جانا بھی نا جائز اور قبیح عمل ہے کیونکہ یہ نجاست نجاست غلیظہ ہے جس کا نگلنا تو قطعا حرام ہے جب کہ منہ میں  لے جانا بھی کراہت سے خالی نہیں ،چنانچہ اس عمل کے بارے میں فقہائے کرا م سے مکروہ اور نا مناسب الفاظ منقول ہیں ۔

 

في النوازل إذا أدخل الرجل ذكره في فم امرأته قد قيل يكره ۔(الفتاوی الهندية،الباب الثلاثون في المتفرقات،ج:5،ص:372)

إذا أدخل الرجل ذكره في فم امرأته فقد قيل :يكره لأنه موضع القرآن،فلا يليق به إدخال الذكر فيه۔(المحيط البرهاني،الفصل الثاني والثلاثون في المتفرقات،ج:5،ص:297)


فتویٰ نمبر : 5235/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں