بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/10/2026

دارالافتاء

 

استبدال مسجد کا مسئلہ


سوال

ایک شخص نے مسجد کیلئے زمین وقف کردی تو اس زمین کےساتھ اہل حدیث نے مسجد بنائی ،اب یہ شخص فتنے کے ڈر سے یہ مسجد یہاں سے تبدیل کرنا چاہتا ہے اور اس کے مٹیریل کو فروخت کرنا چاہتا ہے اور اس کے پیسوں پر دوسری جگہ زمین خریدنا چاہتا ہے تو اس کا حکم کیا ہے؟

جواب

                   جب کوئی زمین مسجد کے لیے وقف  کی جائے ،اور اس پر ایک دفعہ بھی اذان و اقامت کے ساتھ نماز با جماعت ادا کی جائے ،تو وہ قیامت تک مسجد کے حکم  میں رہے گی،لہذااس کا  بیچنا  یا تبدیل کرنا جائز  نہیں ہوگا ، خواہ اس پر باقاعدہ تعمیر کی گئی ہو یا نہیں۔

                  صورت مسئولہ کے مطابق اگر اس شخص نے باقاعدہ طور پر زمین  مسجد کے لئےوقف کردی ہو،اور اس  پر  نماز با جماعت شروع  ہوگئی ہو ،تو   مذکورہ عذر کی بنا   پراس کا بیچنا یا  تبدیل کرنا جائز نہیں ،اسی طرح  اس مسجد  کے مٹیریل  کو بیچنے یا اس کو دوسری جگہ منتقل کرنے کی بھی  شرعا اجازت نہیں، تاہم اگر زمین صرف زبانی طور پر وقف  کی گئی ہو،اور ابھی تک اس میں نماز باجماعت  نہ ہوچکی ہو تو  وقف تام نہ ہونے کی وجہ سے زمین  مالک کی ملکیت  سے نہیں نکلی،لہذا اس صورت میں  زمین تبدیل کرنے کی گنجائش ہے۔

 

(وإذا لزم) الوقف (وتم لا يملك) أي لا يكون مملوكا لصاحبه (ولا يملك) أي لا يقبل التمليك لغيره بالبيع ونحوه لاستحالة تمليك الخارج عن ملكه (ولا يعار ولا يرهن) لاقتضائهما الملك.(درر الحكام شرح غرر الأحكام،كتاب الوقف،ج:2،ص:135،دار إحياء الكتب العربية)

‌من ‌بنى ‌مسجدا لم يزل ملكه عنه حتى يفرزه عن ملكه بطريقة ويأذن بالصلاة أما الإفراز فلا؛ لأنه لا يخلص لله تعالى إلا به، كذا في الهداية... وأما الصلاة فلأنه لا بد من التسليم عند أبي حنيفة ومحمد - رحمهما الله تعالى -، هكذا في البحر الرائق التسليم في المسجد أن تصلي فيه جماعة بإذنه وعن أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - فيه روايتان في رواية الحسن عنه يشترط أداء الصلاة فيه بالجماعة بإذنه اثنان فصاعدا، كما قال محمد - رحمه الله تعالى - رواية الحسن، كذا في فتاوى قاضي خان.(الفتاوى الهندية،كتاب الوقف،الباب الحادى عشر،ج:2،ص:408،دار الفكر)

(قوله: ولو خرب ما حوله) أي ولو مع بقائه عامرا وكذا لو خرب وليس له ما يعمر به وقد استغنى الناس عنه لبناء مسجد آخر (قوله: عند الإمام والثاني) فلا يعود ميراثا ولا يجوز نقله ونقل ماله إلى مسجد آخر، سواء كانوا يصلون فيه أو لا وهو الفتوى.(رد المحتار على الدر المختار،مطلب فيما لو خرب المسجد أو غيره،ج:4،ص:358،دار الفكر)


فتویٰ نمبر : 5233/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں