بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 08/09/2026 |
دارالافتاء
ایزی پیسہ ریٹیلرکاگاہک سےکمیشن لینا
سوال
ایک ریٹیلر دکاندارہے وہ کہتا ہے کہ پہلے جب ہم کسٹمرکےلیے ایزی پیسہ اکاونٹ پرپیسے بھیجتے تو کمپنی والے ہمیں فیس دیتے تھے ہم کسٹمرسےاضافی فیس نہیں لیتے تھے اب ہمیں کمپنی والے بہت کم فیس دیتے ہیں اورکہتے ہیں کہ آپ اپنا فیس کسٹمرسےلےلیں۔توکیا یہ جائز ہے کہ ہم دونوں سے کمیشن لے لیں؟بعض لوگ کہتے ہیں کہ دونوں اطراف سے کمیشن لینا ٹھیک نہیں ہے اور اگر ہم صرف کمپنی والوں سے لے لیں تو اس سے ہمارا منافع نہیں ہوتا۔
جواب
واضح رہے کہ کسی متعین شخص،کمپنی یاادارہ کی جانب سے کسی کام پر مامور شخص اجیر کہلاتا ہے پھر اگر وہ اجیر صرف مستاجر ہی کے واسطے کام کرنےپر مامور ہو تواجیر خاص ہےاور اگر متعین وقت میں کسی متعین شخص یا کمپنی کے لیے کام کرنے پر مامور نہ ہو تووہ اجیر مشترک کہلاۓ گا۔
صورت مسؤلہ میں ایزی پیسہ دکاندار اجیر مشترک ہے اور اجیرمشترک کام مکمل کرنے بعداجرت کا مستحق ہوتا ہے۔ لہذا ریٹیلر دکاندار کاکمپنی سےکمیشن لینا درست ہے۔ لیکن اس پر گاہک سے اضافی کمیشن لينا جائز نہیں کیونکہ دکاندار کمپنی کا اجیر ہے اورکمپنی دکاندار کو ان رقوم کی منتقلی پر اجرت بصورت کمیشن دیتی ہے۔ لہذا ایک عمل پردوہری اجرت یعنی کمپنی کے علاوہ کسٹمر سے بھی اجرت لینادرست نہیں۔
(فالأول من يعمل لا لواحد) كالخياط ونحوه (أو يعمل له عملا غير مؤقت) كأن استأجره للخياطة في بيته غير مقيدة بمدة كان أجيرا مشتركا وإن لم يعمل لغيره (أو موقتا بلا تخصيص)...(ولا يستحق المشترك الأجر حتى يعمل).(الدرالمختار، كتاب الإجاره، ضمان الأجير، ج:9، ص:88، دارالكتب العلمية)
لايجوزلأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغيرسبب شرعى۔(البحرالرائق،فصل فى العزير، ج:5، ص:68)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں