بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/10/2026

دارالافتاء

 

انتظامی امورکی بنا پرعام لوگوں کو جمعہ اورعیدین کے لیے آنے سے روکنا


سوال

کیا ایسی سوسائٹی اور بلڈنگ میں جمعہ اور عیدین کی نماز قائم کی جاسکتی ہے جہاں صرف اور صرف اُسی سوسائٹی کے لوگوں کو اجازت ہو باہر کے لوگوں کو آنے کی اجازت نہ ہو ؟ خواہ سیکورٹی اور حفاظت کے پیش نظر ہو یا دیگر انتظامی امور میں خلل اندازی کے پیش نظر ایسا کیا گیا ہو ؟

 

جواب

                    واضح رہےکہ جمعہ اور عیدین کی شرائط میں سے ایک شرط اذن عام ہے،جس کامطلب یہ ہے ،کہ مسجد کے دروازے لوگوں کے لیےکھلے رکھےجائيں،لہذا اگر عام لوگوں کو مسجد آنے کی اجازت نہ ہو،یاکچھ لوگ آئیں اور مسجد کادروازہ بند کرکےجمعہ یاعیدین کی نمازاداکی جائے تو جمعہ اورعیدین کی ادائیگی صحیح نہ ہوگی،البتہ اگرمسجدقلعہ وغیرہ کے اندرہو، اور دشمن کے خوف یاکسی اور وجہ سے دروازہ بند کیاجائے،توباوجود اس کے کہ دروازہ بندہو،جمعہ اور  عیدین کی ادائیگی صحیح ہوگی۔

                  لہذا صورت مسئولہ کے مطابق سوسائٹی کےذمہ داران کوچاہیےکہ بلاوجہ  مسجد میں عام لوگوں کوآنے سے منع نہ کریں اور ہرکسی کوآنے  کی عام اجازت دیں،تاہم  اگر یکورٹی اور حفاظت یا کسی دوسری واقعی ضرورت کےپیش نظرباہرکے لوگوں کوآنے سے روکاجائے تواس کی گنجائش ہے اور وہاں جمعہ اور عیدین کی نمازدرست ہوگی۔

 

(و) السابع: (الإذن العام) من الإمام،وهو يحصل بفتح أبواب الجامع للواردين۔كافي۔فلا يضرغلق باب القلعة لعدو أو لعادة قديمة لأن الإذن العام مقررلأهله وغلقه لمنع العدو لا المصلي، نعم لو لم يغلق لكان أحسن كما في مجمع الأنهر۔(الدّرالمختارمع ردالمحتار،كتاب الصلوة،باب الجمعة،ج:3،ص:25)


فتویٰ نمبر : 5225/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں