بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

طلاق کو شرط سےمعلق کر نے کے بعد منکر ہونا


سوال

اگر کوئی شخص  ماں کے سامنے اپنی  بیوی کو کہے کہ  1۔اگر یہ ضرورت کے بغیر ماں کے گھر چلی گئی تو "وہی بیٹھی رہے ادھر نہ آئے"2۔دوسرے موقع پر  یہ کہے کہ "اگر میری بیوی   عشا کی آذانوں کے ساتھ گھر پر حاضر نہ ہو  تو میری  طرف سے اس کو "چوٹ طلاق" ہے۔عورت کا بیان ہے کہ ایک مرتبہ میں اپنےوالدین کے گھر پر کسی  ضرورت  (استنجا وغیرہ )کے لیے گئی تھی  کہ وہاں پر دوسرے محلے کی مسجد میں  آذان شروع ہوئی تو میں  فورا  وہاں سے شوہر کے گھر  واپس چلی آئی، کیا مندرجہ بالا صورت حال میں  اس شخص  کی بیوی پر طلاق واقع ہوئی ہے یا نہیں ؟اگر واقع ہوئی ہے تو کونسی طلاق؟اگر طلاق رجعی واقع ہوئی  ہے تو خاوند  کو کتنےعرصہ تک رجوع کا حق حاصل ہے ؟3۔اگر عورت کو اس تمام صورت حال کا  یقینی طور پر  علم ہے ،ایک عورت  گواہ بھی ہو اور خاوند انکار کر رہا ہے تو ایسی صورت ميں   وہ اپنے  مدعا کو  ثابت کرنے کے لیے کیا ذرائع اختیار کرے گا؟اوربیوی کو کیا لائحہ عمل اپنا نا ضروری ہوگا؟

جواب

               اگرشوہر طلاق کو کسی شرط کے ساتھ معلق کرے تو شرط  کے وقوع  کے ساتھ اس کی بیوی پر طلاق واقع ہوجائے گی،اسی طرح اگر شوہراور بیوی کے درمیان  معلق طلاق  دینے کے  بارے میں اختلاف ہوجائےکہ شوہر طلاق معلق کرنے سے منکر ہو اور بیوی دعوی کر رہی ہو تو اگر  بيوی  کے پاس   گواہ  (دومرد یا ایک مرد اور دوعورتیں )موجود ہوں تو  بیوی کا قول معتبر ہو گا یعنی شرط کے وقوع کے ساتھ طلاق واقع ہو جائے گی،تا ہم اگر بیوی گواہ پیش نہ کرسکےتو شوہر سے طلاق معلق نہ کرنے پر قسم لی جائے گی  ۔

               1۔پہلی صورت میں  اگر واقعتا  شوہرنے  بیوی کومذکورہ الفاظ  "اگر یہ ضرورت کے بغیر ماں کے گھر چلی گئی "تو "وہی بیٹھی رہے ادھر نہ آئے"کہے ہوں تو  گویا کہ  شوہرنے کنائی الفاظ کو شرط کے ساتھ معلق کردیا ہے  اور کنائی الفاظ میں شوہر کی نیت کا اعتبار ہوتا ہے ، لہذا اگر شوہر کی نیت طلاق کی تھی  توبیوی پر طلاق بائن  واقع ہوجائیگی،توجب بھی اس کی بیوی بغیر ضرورت ماں کے گھر  چلی جائے تو شرط کے پائے جانے سے اس کی بیوی پر طلاق بائن واقع ہوگی۔

               2۔ دوسری صورت میں  شوہرنے  بیوی کی طلاق کو عشا کی آذانوں کے ساتھ گھر پر حاضر نہ ہونے سے معلق کردیاہے،لہذا اگر بیوی عشاکی آذانوں  کے ساتھ گھر  پر حاضر نہیں تھی ،تواس پر  ایک طلاق رجعی  واقع ہوئی ہے ،جس  کے بعد شوہرعدت کے اندر رجوع  کر سکتا ہےاور تجدید نکاح کی ضرورت نہیں،البتہ عدت گزرنے کے بعد تجدید نکاح ضروری ہوگا۔

                3۔ اگرمیاں،بیوی کےدرمیان طلاق کو شرط کے ساتھ معلق کرنے کے بارے میں اختلاف ہو،عورت طلاق کے معلق کرنے کا دعوی کر رہی ہواور شوہر منکر ہو تو ایسی صورت میں اگر بیوی  کے پاس اپنے دعوی کوثابت کرنےپر گواہ موجود ہوں اور وہ اس کے حق میں گواہی دیں تو بیوی کا قول معتبر ہو گا اور اگر گواہ موجود نہ ہوں تو شوہرسے طلاق معلق نہ کرنے پرقسم لی جائے گی۔

 

 قال الله تعالی : ]وَالْمُطَلَّقَاتُ يَتَرَبَّصْنَ بِأَنفُسِهِنَّ ثَلَاثَةَ قرُوءٍ[(البقرة:228)

عن عمرو بن شعيب ،عن أبيه ،عن جده ،قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: البينة على من ادعى، واليمين على المدعى عليه۔(سنن الدار قطني،باب في المراةتقتل اذا ارتدت،ج2،ص:140)

(و) نصابها (لغيرها من الحقوق سواء كان) الحق (مالا أو غيره كنكاح وطلاق ووكالة ووصية واستهلال صبي) ولو (للإرث رجلان)۔(الدرالمختارعلی صدر رد المحتار،كتاب الشهادات،ج:8،ص:178)

(فإن اختلفا في وجود الشرط) أي ثبوته ليعم العدمي (فالقول له مع اليمين) لإنكاره الطلاق إلا إذا برهنت فإن البينة تقبل على الشرط۔ (قوله في وجود الشرط) أي أصلا أو تحققا كما في شرح المجمع: أي اختلفا في وجود أصل التعليق بالشرط أو في تحقق الشرط بعد التعليق. (قوله فالقول له) أي إذا لم يعلم وجوده إلا منها ففيه القول لها في حق نفسها كما يأتي (قوله لإنكاره الطلاق) أي إنكاره وقوعه؛ وهذا أولى من التعليل بأنه متمسك بالأصل وهو عدم الشرط۔ (الدرالمختار مع رد المحتار،مطلب اختلاف الزوجين في وجود الشرط،ج4،ص610)

الكنايات لا يقع بها الطلاق إلا بالنية أو بدلالة حال۔ )الفتاوی الهندية،كتاب الطلاق،الفصل الخامس في الكنايات في الطلاق،ج1،ص442)

وإذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا مثل أن يقول لامرأته إن دخلت الدار فأنت طالق ۔(الفتاوى الهندية،كتاب الطلاق ،الباب الرابع في الطلاق بالشرط ج1 ص:488)

والأصل الذي عليه الفتوى في زماننا هذا في الطلاق بالفارسية أنه إذا كان فيها لفظ لا يستعمل إلا في الطلاق فذلك اللفظ صريح يقع به الطلاق من غير نية إذا أضيف إلى المرأة وما كان بالفارسية من الألفاظ ما يستعمل في الطلاق وفي غيره فهو من كنايات الفارسية فيكون حكمه حكم كنايات العربية في جميع الأحكام كذا في البدائع۔(الفتاوی الهندية،كتاب الطلاق،الفصل السابع في الطلاق بالألفاظ الفارسية،ج1،ص:447)


فتویٰ نمبر : 6542/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں