بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 08/09/2026 |
دارالافتاء
بيوی کومتعددالفاظ سےطلاق دینا
سوال
(1)اگرکوئی آدمی اپنی بیوی سےیہ الفاظ "زہ،نن کھلم کھلاطلاق درکوم"کہے،کچھ وقت کےبعدکہے"زہ طلاق ورکوم،طلاق،طلاق،طلاق"ماکورنہ ووزہ۔نیزاس کےبعدکہے"ماطلاق ورکہ،طلاق مےورکہ،طلاق مےورکہ"۔شرعااس صورت حال میں طلاق کاکیا حکم ہے؟(2)اگرطلاق ہوئی ہوتوان کےبچوں کاکیاحکم ہےیعنی آئندہ باپ کےساتھ رہیں گےاوریاان کی پرورش کاحق والدہ کو ہوگا؟
جواب
(1)جب صریح الفاظ کےساتھ کوئی آدمی اپنی بیوی سےطلاق کےالفاظ کہےتوبغیرنیت کے بھی طلاق واقع ہوجاتی ہے۔
صورت مسئولہ کےمطابق جوشخص اپنی بیوی سےیہ کہےکہ" زہ،نن کھلم کھلاطلاق درکوم"،"زہ طلاق ورکوم،طلاق،طلاق،طلاق"زماکورنہ ووزہ،"ماطلاق ورکہ،طلاق مےورکہ،طلاق مےورکہ"۔توان الفاظ سےتین طلاقیں واقع ہوکربیوی مطلقہ مغلظہ ہوکراس کےنکاح سےنکل چکی ہے۔
(2)میاں بیوی کےدرمیان جدائی کےبعدبچہ سات سال تک اوربچی نوسال تک ماں کی پرورش میں رہنےکےحقدارہیں،اس کےبعدباپ ان کی پرورش کرے گا۔
قوله ( وما بمعناها من الصريح ) أي مثل ما سيذكره من نحو كوني طالقا واطلقي ويا مطلقة بالتشديد وكذا المضارع إذا غلب في الحال مثل أطلقك كما في البحر۔(ردالمحتارعلى الدرالمختار،كتاب الطلاق،ج:4،ص:457)
وإذا قال لامرأته أنت طالق وطالق ولم يعلقه بالشرط إن كانت مدخولة طلقت ثلاثا۔(الفتاوى الهندية،الفصل الأول في الطلاق الصريح،ج:1،ص:423)
( والحاضنة ) أما أو غيرها ( أحق به ) أي بالغلام حتى يستغني عن النساء وقدر بسبع۔۔۔( والأم والجدة ) لأم أو لأب ( أحق بها ) بالصغيرة ( حتى تحيض ) أي تبلغ۔۔۔( وغيرهما أحق بها حتى تشتهي ) وقدر بتسع۔۔۔( وعن محمد أن الحكم في الأم والجدة كذلك ) وبه يفتى لكثرة الفساد۔۔۔أما بعده فيخير بين أبويه وإن أراد الانفراد فله ذلك۔(الدرالمختارعلى صدرردالمحتار،باب الحضانة،ج:5،ص:267۔270)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں