بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/10/2026

دارالافتاء

 

جھوٹا سرٹیفکیٹ پیش کرکےاس پر تنخواہ وصول کرنا


سوال

حکومت نے زید کو ملازمت دے کر یہ حکم دیا کہ جب تک آپ کا ریگولر آرڈر نہ نکلے اس وقت تک آپ ٹرانسفر نہیں کرسکتے، لیکن دو سال بعد زید کو کمر کی تکلیف شروع ہوئی، جس کی وجہ سے  ڈاکٹر نے سفر سے منع کیا اور آپریشن بھی تجویز کیا۔ اس دوران زید نے ٹرانسفر کی درخواست دی تو متعلقہ آفیسر نے زید کا ٹرانسفر آرڈر کیا،لیکن اس میں یہ لکھا کہ جب آپ کا ریگولر آرڈر آجائے، تو آپ دوسرے ڈیوٹی اسٹیشن پر جا سکتے ہیں، تاہم  زید ریگولرایزیشن نوٹیفیکیشن سے پہلے دوسرے ڈیوٹی اسٹیشن پرچلا گیا۔ اب حکو مت نے ریگولرایزیشن نوٹیفیکیشن کےلیے ڈیوٹی سرٹیفکیٹ اور دوسرے کاغذات منگوائے ہیں، لہذا اب یہاں دو سوال ہیں: ۱۔ زید اگر ڈیوٹی سرٹیفکیٹ پہلے والے اسٹیشن کا دے، تو کیا یہ جھوٹ بحالت مجبوری کہنا جائز ہے یا نہیں؟ ۲۔  اس جھوٹ کے کہنے کے بعد زید ریگولر ہوجائے اور جو تنخواہ وصول کرے، تو وہ حلال ہے یا حرام؟

جواب

                شریعت مطہرہ کی رو سے جھوٹ گناہ کبیرہ ہونے کی وجہ سے حرام اور ناجائز ہے، تاہم بعض اوقات سخت ضرورت کی بنا پر توریہ یا تعریض وغیرہ سے استفادہ کیا جاسکتا ہے، اگرچہ اس سے بھی اجتناب کرنا چاہئے۔ نیز جھوٹا سرٹیفکیٹ شہادۃ الزور (جھوٹی گواہی) کے زمرے میں بھی آتا ہے جس کا ارتکاب کرنے والا گنہگار ہوتا ہے۔

                لہذا صورت مسئولہ کے مطابق اگر واقعی سائل  جھوٹ پر مبنی ڈیوٹی سرٹیفکیٹ پیش کررہا ہو تو اس کے لیے ایسا کرنا جائز نہیں، جس کی وجہ سے متعلقہ آفیسر اور سائل دونوں گنہگار ہوں گے، البتہ اگر  جھوٹ کے بجائے توریہ یا تعریض وغیرہ سے کام لے تو اس کی گنجائش ہے۔

              جہاں تک ریگولر ہونے کے بعد تنخواہ وصول کرنے کی بات ہے، تو اگرچہ  سائل  اور متعلقہ آفیسر اس جھوٹے سرٹیفکیٹ کی وجہ سے گناہ کے مرتکب ہیں، لیکن اگر سائل اس کام کی اہلیت رکھتا ہو جس کے لیے اس کا انتخاب ہوا ہے اور ڈیوٹی کے اوقات میں حاضر بھی رہتا ہو  تو  اس کےلیے  تنخواہ یا اجرت لینے میں کوئی مضائقہ نہیں۔

 

حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شعبة، حدثني عبيد الله بن أبي بكر قال: سمعت أنس بن مالك قال: ذكر رسول الله صلى الله عليه وسلم الكبائر، أو سئل عن الكبائر، فقال: " الشرك بالله، وقتل النفس، وعقوق الوالدين " وقال: " ألا أنبئكم بأكبر الكبائر " قال: " قول الزور، أو قال: شهادة الزور " قال شعبة: أكبر ظني أنه قال: " شهادة الزور ". (مسند الإمام أحمد بن حنبل،ج:19، ص:343، رقم الحديث: 12336،مؤسسة الرسالة)

(‌والكذب ‌حرام إلا في الحرب للخدعة وفي الصلح بين اثنين وفي إرضاء الأهل وفي دفع الظالم عن الظلم)... (ويكره التعريض به) أي بالكذب (إلا لحاجة). (مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر،كتاب الكراهية، فصل في المتفرقات، ج:2، ص:552، دار إحياء التراث العربي،بيروت)

وإن استأجرها ليزني بها، ثم أعطاها مهرها أو ما شرط لها لا بأس بأخذه؛ لأنه في إجارة فاسدة ‌فيطيب ‌له وإن كان السبب حراما. (البحرالرائق شرح كنز الدقائق، باب الإجارة الفاسدة، ج:8، ص:22، دار الكتاب الإسلامي)


فتویٰ نمبر : 5220/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں