بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 20/10/2026

دارالافتاء

 

تعلیق طلاق کی ایک صورت


سوال

میرا ایک بھائی قطر میں مزدوری کررہاتھا،باتوں باتوں میں تلخ کلامی ہوئی پھر قطر والے بھائی  نے مجھ سے بارہ لاکھ روپے کا مطالبہ کیا،میرے ساتھ   روپے نہیں تھے،پھر غصہ ہوکرقسم کھائی کہ اگر آپ نے مجھے بارہ لاکھ روپے نہیں بھیج دیئے ،تو آج کے بعد اگر میں نےآپ کیساتھ اکھٹے(کھانا پینا اور سرمایہ مشترک)زندگی گزاری،تو میری بیوی کوطلاق ہوگی،مطلق لفظ طلاق بولاہے عدد کا کوئی ذکر نہیں کیا ہے،اور ساتھ ہی میں کہا ہے کہ میرا ہمیشہ الگ زندگی گذارنے کا ارادہ نہیں تھا ،اب میں نے پیسے نہیں بھیج دیئے،پھر اس نے اپنی بیوی اوراولاد کو ہم سے الگ کرلیئے تقریبا پانچ مہینے ہوئے ہیں۔اب والدین اور بھائیوں سب کا یہ خواہش ہیں،کہ قطر والا بھائی ہمارے ساتھ اکھٹےہوجائیں،اب پوچھنا یہ ہے کہ ہمارے ساتھ اکھٹے رہنے میں طلاق واقع ہوگی یا نہیں ؟اگر ہوگی تو کونسی طلاق ہوگی؟

جواب

               اگر کوئی شخص اپنی بیوی کی طلاق کو کسی شرط کے ساتھ معلق  کرے تو جب بھی وہ شرط پائی جائے گی ، طلاق واقع ہوجائے گی اگر تین  طلاقیں معلق کی ہوں  تو عورت مطلقہ مغلظہ ہو جائے گی اور اگر ایک طلاق  معلق کی تھی تو صرف ایک طلاق رجعی واقع ہوگی۔

               لہذاصورت مسؤلہ میں جب مذکورہ شخص نےطلاق کووالدین اور بھائیوں کے ساتھ اکھٹے رہنے کےساتھ معلق کیاہےتو جب بھی  وہ ان کے ساتھ اکھٹے رہنے لگے گا تو شرط پائے جانے کی وجہ سے اس کی بیوی کو ایک طلاق رجعی واقع ہوگی،طلاق رجعی کے بعد خاوند کو عدت کے اندر رجوع کرنے کا حق ہوگا۔اگر عدت میں رجوع نہیں کی تو عدت کے بعد تجدید نکاح ضروری ہوگااور آئندہ کے لیے دو طلاقوں کا مالک رہےگا۔

 

وإذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقامثل أن يقول لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق ۔(الفتاوى الهندية،باب تعليق الطلاق،ج:1،ص:420)
واذا طلق الرجل امراته تطلیقة رجعیة او تطلیقتین فله ان یراجعها فی عدتها۔(الهداية،کتاب الطلاق،ج:3،ص:394)

 


فتویٰ نمبر : 6551/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں