بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 08/09/2026 |
دارالافتاء
زكوة کی ادا ئیگی کے لیے افضل مصرف
سوال
اگر کوئی شخص زکوٰۃ کی ادائیگی کرنا چاہے تو ایسی صورت میں اپنے رشتہ داروں ،محلے والوں ،شہر والوں اور پوری امت میں زیادہ مستحق کون ہے؟
جواب
زکوۃ کی ادئیگی میں افضل یہ ہے کہ اگر اپنے رشتہ داروں میں کوئی ضرورت مند اور مستحقِ زکوۃ ہو تو اسی کو پہلے زکوۃدی جائے، کیوں کہ غریب و مستحق رشتہ داروں کو زکوۃ دینے سے دہرا اجر ملتا ہے، ایک صدقہ کا اور دوسرا صلہ رحمی کا۔اسی طرح اپنے شہر کے مستحقِ زکوۃ غرباء کا حق دوسرے شہر کے غرباء سے مقدم ہے۔ نیزاگر کسی جگہ ضرورت زیادہ ہو یا دین اسلام کی اشاعت میں زکوۃ کی رقم کی طرف احتیاج ہو، مثلاً:دینی مدارس کے طلبہ، علماء وغیرہ ،تو ایسی جگہ زکوۃ دینا بھی مستحسن اوردوہرے اجر کا باعث ہے ۔
"(و) كره (نقلها إلا إلى قرابة) بل في الظهيرية لاتقبل صدقة الرجل وقرابته محاويج حتى يبدأ بهم فيسد حاجتهم (أو أحوج) أو أصلح أو أورع أو أنفع للمسلمين (أو من دار الحرب إلى دار الإسلام أو إلى طالب علم) وفي المعراج التصدق على العالم الفقير أفضل (أو إلى الزهاد أو كانت معجلة) قبل تمام الحول فلا يكره خلاصة.
(قوله: وكره نقلها) أي من بلد إلى بلد آخر؛ لأن فيه رعاية حق الجوار فكان أولى زيلعي والمتبادر منه أن الكراهة تنزيهية تأمل، فلو نقلها جاز؛ لأن المصرف مطلق الفقراء درر، ويعتبر في الزكاة مكان المال في الروايات كلها واختلف في صدقة الفطر كما يأتي (قوله: بل في الظهيرية إلخ) إضراب انتقالي عن عدم كراهة نقلها إلى القرابة إلى تعيين النقل إليهم، وهذا نقله في مجمع الفوائد معزيا للأوسط عن أبي هريرة مرفوعاً إلى النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال: «يا أمة محمد والذي بعثني بالحق لايقبل الله صدقة من رجل وله قرابة محتاجون إلى صلته ويصرفها إلى غيرهم، والذي نفسي بيده لاينظر إليه الله يوم القيامة» . اهـ. رحمتي. والمراد بعدم القبول عدم الإثابة عليها وإن سقط بها الفرض؛ لأن المقصود منها سد خلة المحتاج وفي القريب جمع بين الصلة والصدقة. وفي القهستاني: والأفضل إخوته وأخواته ثم أولادهم ثم أعمامه وعماته ثم أخواله وخالاته ثم ذوو أرحامه ثم جيرانه ثم أهل سكته ثم أهل بلده كما في النظمز. قلت: ونظم ذلك المقدسي في شرحه". (قوله: أو من دار الحرب إلخ) ؛ لأن فقراء المسلمين الذين في دار الإسلام أفضل من فقراء دار الحرب بحر.(الدر المختار مع رد االمحتار ،باب مصرف الزكوة و العشر ،ج:2،ص:353)
"(و) كره (نقلها إلا إلى قرابة) بل في الظهيرية لاتقبل صدقة الرجل وقرابته محاويج حتى يبدأ بهم فيسد حاجتهم (أو أحوج) أو أصلح أو أورع أو أنفع للمسلمين (أو من دار الحرب إلى دار الإسلام أو إلى طالب علم) وفي المعراج التصدق على العالم الفقير أفضل (أو إلى الزهاد أو كانت معجلة) قبل تمام الحول فلا يكره خلاصة.(رد المحتار علی الدر المختار،باب مصرف الزكوة و العشر ،ج:2،ص:353)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں