بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

پلاٹ کی تعیین کیے بغیر فائل کی خرید وفروخت


سوال

ہم مختلف سوسائٹی کے فائلز خریدتے ہیں اور فروخت کرتے ہیں مثلاًBlue world city،PHAاورDHA وغیرہ وغیرہ ،اس میں پلاٹ کا سائز متعین ہوتا ہے مثلاً پانچ مرلہ یا دس مرلہ رہائشی پلاٹ ہے اور قیمت بھی متعین ہوتی ہے کہ ٹوٹل پلاٹ کی کل قیمت مثلا پچاس لاکھ ہے اور رقم ادا کرنے کا وقت بھی مقرر ہوتا ہے کہ مثلاً تین سال میں ادا کرنا ہوگا اور ادا کرنے کا طریقہ بھی متعین ہوتا ہے مثلاً ماہانہ چالیس  ہزار اور ہر چھ مہینہ کے بعد دو  لاکھ ادا کرنا ہوگا ،اور ہر فیز بھی متعین ہوتا ہے مثلاً اورسیز ہے یا جنرل بلاک ہے یا مثلاً A بلاک ہے یا B بلاک ہے لیکن پلاٹ A بلاک میں کہاں ہوگا یا اورسیز بلاک میں کہاں ہوگا اور کونسی گلی میں ہوگا اور پلاٹ کا نمبر کونسا ہے شمال کی طرف ہے یا جنوب کی طرف یا مشرق کی طرف یہ سب کچھ متعین نہیں ہوتا کیونکہ نقشہ نہیں ہوتا ، تو اس طرح کے فائلز خریدنے  اورپھر نفع پر فروخت کرنے کا کیا حکم ہے؟ اگر جائز نہ ہو تو جو معاملات ہوچکے ہوں  اور فسخ کرنا ممکن نہ ہو تو کیا طریقہ اختیار کیا جائے ؟ نیز کبھی کبھار صرف فائلز خریدتے ہیں نہ بلاک متعین ہوتا ہے نہ فیز اور نہ ہی محل وقوع متعین ہوتا ہے یہ فائلز صرف پلاٹ خریدنے کا رسید اور ثبوت ہوتا ہے جس پر پیسہ جمع کیا جاتاہے اور پلاٹ کی تعیین مکمل پیسہ جمع کرنے کے بعد قرعہ اندازی سے ہوتی ہے اس کا کیا حکم ہے ؟

جواب

 واضح رہے کہ بیع کے صحیح ہونے کےلیے یہ ضروری ہے کہ مبیع متعین ہو،مقدور التسلیم ہو اور مبیع میں ایسی جہالت نہ ہوجو تنازع کا سبب بن سکے،اور اگر مبیع میں ایسی  جہالت ہو جو تنازع کا سبب بن سکےتو وہ بیع صحیح نہیں ہوگی۔

لہذا صورت مسئولہ میں اگر چہ بلاک تو متعین ہے لیکن بلاک کے اندر پلاٹ  کے مقام کا پتہ نہیں ہے کہ وہ آگے ہے،پیچھے ہے،درمیان میں ہے،کشادہ گلی میں ہے یا تنگ گلی  میں ہے  یہ ساری  ایسی چیزیں ہیں  جو تنازع کا سبب بن سکتی ہیں کیونکہ زمین کے اطراف قیمت کےاعتبار سے مختلف ہو تے ہیں  بعض اطراف کی قیمت زیادہ ہوتی ہے اور بعض کی کم ،اس وجہ سے اس طرح کے فائلوں کی خرید وفروخت جائز نہیں ہے،جہاں کہیں اس طرح کا عقد ہو چکا ہوتو فاسد ہونے کی وجہ سے مشتری اور بائع دونوں کےلیے ضروری ہے کہ اس عقد کو فسخ کریں ،لیکن اگر فسخ کرنا ممکن نہ ہو  تو   اللہ تعالی سے اس بیع پرمعافی مانگیں اور مشتری پلاٹ کے فائل کو اس وقت تک آگے فروخت نہیں کر سکتا جب تک پلاٹ نمبر اور اس  کی  حدود  وغیرہ  مکمل طور پر واضح نہ ہوجائیں  ۔

 

ووجه كون الموضع مجهولا أنه لم يبين أنه من مقدم الدار، أو من مؤخرها، وجوانبها تتفاوت قيمة فكان المعقود عليه مجهولا جهالة مفضية إلى النزاع، فيفسد كبيع بيت من بيوت الدار كذا في الكافي عزمية.(رد المحتار على الدر المختار،مطلب مهم في أحكام النقود إذا كسدت،ج:4،ص:545)

وأما شرائطه فاثنان أحدهما القبض فلا يثبت الملك قبل القبض لأنه واجب الفسخ رفعا للفساد وفي وجوب الملك قبل القبض تقرر الفساد۔(بدائع الصنائع، كتاب البيوع، فصل في حكم البيع،ج:7، ص:377)


فتویٰ نمبر : 3212/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں