بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

خواتین کا باجماعت نماز کے لیے آنا


سوال

اگر مسجد کے گراؤنڈ فلور میں مرد نماز پڑھتے ہوں تو کیا خواتین پہلی منزل میں نماز باجماعت پڑھنے کے لیے آسکتی ہیں؟

جواب

                فتنہ و فساد کے اس دور میں عورتوں کا مسجد میں با جماعت نماز پڑھنے کے لیے آنا  تشویش سے خالی نہیں ہے،یہی وجہ ہے کہ فقہائے کرام نے عورتوں کی نماز باجماعت میں شرکت کو مکروہ تحریمی لکھا ہے،تاہم اگر کسی مسجد میں پردے کا معقول انتظام ہواور کسی فتنہ و فساد کا خطرہ نہ ہو(جو کہ مشکل ہے)تو ایسی صورت میں عورتوں کے لیے مرد امام کے پیچھے نماز  پڑھنا جائز ہے،لیکن فتنہ و فساد کے  نہ ہونے کے باوجود بھی عورتوں کے لیے گھروں میں نماز پڑھنا باجماعت نماز کے مقابلے میں بدرجہا بہتر ہے۔

 

قوله :(لا يحضرن  الجماعات )لأنه لايؤمن من الفتنة من خروجهن۔أطلقه فشمل الشابة والعجوز،والصلوة النهارية والليلية،قال المصنف في الكافي :والفتوى اليوم  على الكراهة في الصلوة كلهالظهور الفساد۔(البحر الرائق،كتاب الصلوة،باب الإمامةدارالكتب العلمية،ج:1،ص:627)

ويكره حضورهن الجماعة ولو لجمعة و عيد ووعظ مطلقاو لو عجوزا(۔الدرالمختار،كتاب الصلوة،دارالكتب العلمية،ج:2،ص:308)


فتویٰ نمبر : 9336/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں