بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 21/10/2026

دارالافتاء

 

درختوں کے کاٹنے پر جرمانہ لگانا


سوال

اگر ایک قوم اپنے حصے کے پہاڑ میں درختوں کی حفاظت کرتی ہوا  وردوسرے علاقے کے لوگوں کو آگاہ کیا ہو کہ ہم اپنے حصے کے پہاڑ کی حفاظت کرتے  ہیں، لہذا ہمارے حصے میں درختوں کو نہ کاٹو ا گر کسی نے کٹائی کی تو ہم مالی جرمانہ لیں گے۔تو مسئلہ یہ ہے کہ یہ جرمانہ لینا کیسا ہے ؟ اگر دوسرے علاقے کے لوگوں کو پکڑ لیا۔

جواب

               واضح رہے کہ مالی جرمانہ کے جوازمیں فقہاےکرام کا  اختلاف ہے،فقہاے احناف میں سے اکثر کے ہاں جائزنہیں، البتہ  امام ابو یوسف  ؒ سے اس کا جواز منقول ہے،اور موجودہ حالات کا تقاضہ بھی یہی ہےکہ بعض انتظامی امور میں مالی جرمانہ مقررکیا جائے، کیو نکہ ہر مجرم کو بدنی سزا دینے سے لوگ مشقت میں پڑجائیں گے جو تنفیر کا سبب  بنے گا ۔اور بسا اوقات مالی سزابدنی سزا سے زیادہ کار امد ثابت ہو سکتاہے، لہذا موجودہ حالات میں  امام ابو یوسف ؒ کے قول سے استفادہ کرتے ہوئے اس کے جواز کی گنجائش ہے بشرطیکہ دوسرا راستہ نہ ہو ۔

                صورت مسئولہ میں درختوں کی  حفاظت اورآپس کی خانہ جنگی سے بچنےکے لیے زجر اور تادیب کی خاطر مالی جرمانہ لینا جائز ہے۔تاہم مالی جرمانہ کے علاوہ اگر یہ طے کرلیاجائےکہ اگر کسی نے درخت کاٹے تو ہم درختوں کواس پر فروخت کرکےدوگنی قیمت وصول کریں گےتو یہ صورت اختیار کرنا بہتر ہوگا۔

 

حدثنا محمد بن عمرو السواق قال: حدثنا عبد العزيز بن محمد، عن صالح بن محمد بن زائدة، عن سالم بن عبد الله، عن عبد الله بن عمر، عن عمر، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «‌من ‌وجدتموه ‌غل في سبيل الله فاحرقوا متاعه» قال صالح: فدخلت على مسلمة ومعه سالم بن عبد الله، فوجد رجلا قد غل، فحدث سالم بهذا الحديث، فأمر به، فأحرق متاعه، فوجد في متاعه مصحف، فقال سالم: بع هذا وتصدق بثمنه. (جامع الترمذي،أبواب الحدود، باب ما جاء في الغال ما يصنع به، ج:04، ص:61 ،شركة مكتبة ومطبعة مصطفى البابي الحلبي – مصر)

‌يجوز ‌التعزير بأخذ المال وهو مذهب أبي يوسف وبه قال مالك، ومن قال: إن العقوبة المالية منسوخة فقد غلط على مذاهب الأئمة نقلا واستدلالا وليس بسهل دعوى نسخها.وفعل الخلفاء الراشدين وأكابر الصحابة لها بعد موته - صلى الله عليه وسلم - مبطل لدعوى نسخها، والمدعون للنسخ ليس معهم سنة ولا إجماع يصحح دعواهم. (معين الحكام فيما يتردد بين الخصمين من الأحكام،ص:195،دارالفكر،بيروت)

ومن اشترى شيئا ‌وأغلى ‌في ‌ثمنه فباعه مرابحة على ذلك جاز. (الفتاوى الهندية،ج:3،ص:161،دارالفكر،بيروت)


فتویٰ نمبر : 5248/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں