بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

لڑکی کوبالغ ہونے کے بعد فسخ نکاح کا اختیار


سوال

اگرکسی نابالغ لڑکی کا نکاح اس کا باپ کرے تو کیا بالغ ہونے کے بعد اسے خیار بلوغ حاصل ہوگا یا نہیں؟

جواب

                واضح رہے کہ باپ کو اپنی نابالغ اولاد پر ولایتِ تامہ حاصل ہوتی ہے، جس کی وجہ سےوہ اپنی نابالغ  اولاد کا نکاح ان کی رضامندی اور اجازت کے بغیر بھی کراسکتا ہےاور شریعت نے یہ اختیار والد کو اس کی فطری ہمدردی ،شفقت اور اولاد کے حق میں بہتر سے بہتر فیصلہ کرنے کی وجہ سے دیاگیا ہے  ۔ یہی وجہ ہے کہ اولاد کوبالغ ہونے کے بعد اپنے والد کے کرائے ہوئےنکاح کوفسخ کرنے کا اختیار نہیں ،تاہم جہاں کہیں یہ شفقت اور ہمدردی مفقود ہو اور باپ نے اپنے ذاتی مفاد یا لالچ کی بنیادپر بیٹی کا نکاح کرایا ہو تو ایسی صورت میں باپ کا حق ولایت متاثر ہوجاتا ہے ،اور لڑکی کو بالغ ہونے کے بعد نکاح کو فسخ کرنے کا اختیار مل جاتاہے۔

             لہذاصورت مسئولہ کے مطابق اگر باپ نے بیٹی کا نکاح کرانے میں مفاد پرستی سے کام نہ لیا  ہو  تو ایسی نابالغ  لڑکی کو بالغ ہونے کے بعدنکاح کو فسخ کرنے کا اختیار حاصل نہیں ہوگا،اور اگر باپ نے اپنے کسی ذاتی مفاد کی بنیاد پر نکاح کرایا ہو تو پھر لڑکی کو بالغ ہونے کے بعدنکاح کو فسخ کرنے کا اختیار حاصل ہوگا۔

 

‌فإن ‌زوجهما ‌الأب والجد فلا خيار لهما بعد بلوغهما.(الفتاوى الهندية،كتاب النكاح،الباب الرابع: في الأولياء ج:1،ص:351)

" ‌فإن ‌زوجهما ‌الأب أو الجد " يعني الصغير والصغيرة " فلا خيار لهما " بعد بلوغهما لأنهما كاملا الرأي وافرا الشفقة فيلزم العقد بمباشرتهما كما إذا باشراه برضاهما بعد البلوغ ".(الهداية،كتاب النكاح،باب في  الأولياءوالأكفاء:ج:3،ص:34)

ومعنى هذا الكلام:أنه لا يجوز العقد عندهما؛لأن ‌الولاية ‌مقيدة بشرط النظر فعند فواته يبطل العقد.(الهداية،كتاب النكاح،فصل في الكفاءةج:3،ص:48)


فتویٰ نمبر : 6547/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں