بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 26/10/2026 |
دارالافتاء
جنازگاه كی زمین کو قبرستان کی زمین میں ملانا
سوال
جنازگاہ کی زمین کو قبرستان کی زمین میں ملانا جائز ہےیا نہیں؟
جواب
واضح رہے،کہ واقف اپنی زمین کو جس مصرف کے لیے وقف کردے،تواس کو متعلقہ مصرف میں استعمال کرنا ضروری ہے۔تاہم جہاں پرلوگ کسی ضرورت یا مصلحت کی وجہ سے موقوفہ زمین کومتعلقہ مصرف کےعلاوہ میں استعمال کرناچاہیں،تومسجد کےعلاوہ دیگرموقوفہ زمین جیسےقبرستان یاجنازگاه وغیرہ کی زمین کادوسرے مصرف میں استعمال کرنے کی گنجائش ہوگی،بشرطیکہ واقف یا اس کے ورثا اس پرراضی ہوں۔
لہذا صورت مسئولہ کے مطابق:
(1)اگر زمین صرف قبرستان کے لیے وقف ہو،اور اس میں عارضی جنازگاہ بنائی گئی ہو،توشرعاًاس جنازگاہ كوقبرستان میں ملاناجائزہے۔
(2)اوراگریہ زمین جناز گاہ اورقبرستان دونوں کے لیے مطلقاً وقف ہو،توچونکہ دونوں کاتعلق فی الجملہ کار خیر سےہے،اس لیے قبرستان کوجنازگاہ میں یاجنازگاہ کوقبرستان میں ملانے کی گنجائش ہوگی۔
(3)لیکن اگر یہ جگہ قبرستان اور جنازگاہ دونوں کے لیے وقف ہو،اورواقف نےیہ تصریح اور تعيین کی ہو،کہ یہ جگہ قبرستان اور یہ جنازگاہ کےلیے ہے،تو اس صورت میں واقف یااس کےورثاکی اجازت کے بغیر جنازگاہ یاقبرستان کواپنی اپنی جگہ سے تبدیل کرنا مناسب نہیں،تاہم اگر جنازگاہ کی زمین وسیع ہو،اور قبرستان کے لیے زمین نہ ہو،توضرورت اور مصلحت کے پیش نظر جنازگاہ کی زمین کوقبرستان میں ملاناجائز ہے،بشرطیکہ واقف یا اس کے ورثا اس پر راضی ہوں۔
لوأن مقبرةمن مقابرالمسلمين عفت فبنى قوم عليهامسجدالم أربذلك بأسا، وذلك لأن المقابروقف من أوقاف المسلمين لدفن موتاهم لا يجوز لأحدأن يملكها، فإذا درست واستغنى عن الدفن فيها جاز صرفها إلى المسجد، لأن المسجد أيضا وقف من أوقاف المسلمين لا يجوز تملكه لأحد، فمعناهما على هذا واحد۔(عمدةالقاري،باب بيان حكم نبش قبور المشركين ،ج:5،ص375)
وفي القنية مبادلة دارالوقف بدارأخرى إنماتجوزإذاكانت في محلةواحدةوتكون المحلةالمملوكةخيرامن المحلةالموقوفةوعلى عكسه لا يجوزكذا في البحرالرائق۔(الفتاوى الهندية،الباب الرابع في مايتعلّق بالشرط في الوقف،ج:2،ص375)
رجل جعل قطعةأرضه مقبرةودفنوافيها، ثم أنّ رجلاً من أهل تلك القرية بنى فيها بناء لوضع اللبن وأدّاه الغير واحتبس فيه رجلاً يحفظ المتاع بغير رضا الباقين من أهل القرية فهذا على وجهين: إن كان في أرض المقبرة سعة لا يحتاج إلى ذلك المكان اليوم لا بأس به، وإن لم يكن في أرض المقبرة سعة واحتاجوا إلى ذلك المكان اليوم يرفع البناء ويدفن۔(المحيط البرهاني ،الفصل الثاني والعشرون في المسائل التي تعود الي الرباط والمقابروالخانات والحياض والطرق والسقايات،ج:7،ص142)
أنهم صرحوابأن مراعاةغرض الواقفين واجبة۔(ردالمحتارعلى الدرالمختار،مطلب مراعاةغرض الواقفين واجبة۔ج:6،ص:665)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 329
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 246
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 894
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 455
- کتاب الصوم | فتاوئ : 91
- کتاب الحج | فتاوئ : 112
- کتاب النکاح | فتاوئ : 576
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 494
- خلع | فتاوئ : 50
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 7
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 60
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 88
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 477
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 102
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 78
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 82
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 22
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 177
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 413
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 22
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 32
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 8
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 199
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 154
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 63
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 43
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 324
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1193
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 34
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 388
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں