بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

تصوير والے كپڑےكی خريدوفروخت


سوال

میری کپڑوں کی دوکان ہے میں جوکپڑے خریدتا ہوں اس پر کمپنی کی طرف سے لڑکیوں کی تصاویرہوتی ہیں میرا کام کمپنی سے خریدنا اور پھر اس کو آگے بیچنا ہے میراان تصاویر کو پرنٹ کروانے سے کوئی تعلق نہیں، لیکن میں ان کپڑوں کو تصاویر کے ساتھ خرید کر آگے بیچتا ہوں تو کیا میں گنہگار ہوں گایا نہیں ؟

جواب

                    واضح رہے کہ جن اشیاءپرجاندار کی تصاویر ہوتی ہیں ان کی خریدوفروخت کرنے کاحکم یہ ہے کہ اگر ان اشیاء کی خریدوفروخت سے جاندار کی تصاویر کی خریدوفروخت مقصود ہو،تو یہ  ناجائز ہے،اور اگر تصاویر کی خرید وفروخت مقصود نہ ہو،بلکہ ضمناًاور تبعاًآگئی ہو ں تو ایسی اشیاء کی خریدوفروخت جائز ہےتاہم اس سے بھی احتراز کرنا بہتر ہے۔

                    لہذا صورت مسئولہ کے مطابق اگر مقصد صرف کپڑے کی تجارت ہو اور تصاویر کی خریدوفروخت مقصود نہ ہو تو اس  میں کوئی مضائقہ نہیں البتہ تصویر والے کپڑے سےحتی الامکان اجتناب کرنا بہترہے۔

 

القاعدة الثانية : الأمور بمقاصدها...وذكر قاضي خان في فتاواه أن بيع العصير ممن يتخذه خمرا ؟ إن قصد به التجارة فلا يحرم وإن قصد به لأجل التخمير حرم وكذا غرس الكرم على هذا انتهى.(الأشباه والنظائر، ابن نجيم، ص:12)

”يغتفر في الشيء ضمنا ما لا يغتفر قصدا“.”وقولهم قد يثبت الشيء ضمناولايثبت قصدا“.(شرح المجلة،  لخالدالأتاسي،مادة:54ج:1ص:131)


فتویٰ نمبر : 3198/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں