بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

بہن کاحق دبانے والے شخص کی طرف سے کوئی چیز قبول کرنا


سوال

کسی نے اپنی بہن کا حق مارا ہو،تو ان کے گھر کھانا کھانایا کپڑے لینا وغیرہ حلال ہے یا حرام؟

جواب

              واضح رہےکہ اگرکسی شخص کے متعلق معلوم ہو ،کہ اس کی آمدنی کاغالب  حصہ حلال کاہے تو اس کے ہاں کھانے وغیرہ کی گنجائش ہے،تاہم  جن لوگوں کی کمائی کے مال کاغالب حصہ  حرام کاہو توان کےساتھ کھانا کھانے اور ہدیہ قبول کرنے سے احتراز لازم ہے۔

              صورت مسؤلہ کے مطابق کسی نے اپنی بہن کا حق مارا  ہو تو یہ ایک عظیم گناہ ہے،لیکن جہاں تک ان کے گھر کھانا کھانے یا کپڑے لینے اور ان سے ہدیہ  قبول کرنا ہےتواگر اس کا غالب مال حلال کا ہو تو اس کی گنجائش ہے۔

 

آكل الربا وكاسب الحرام أهدى إليه أو أضافه وغالب ماله حرام لا يقبل، ولا يأكل ما لم يخبره أن ذلك المال أصله حلال ورثه أو استقرضه، وإن كان غالب ماله حلالا لا بأس بقبول هديته والأكل منها، كذا في الملتقط.(الفتاوی الهندية،كتاب الكراهية،ج:5،ص:397،دارالفكر،بيروت)


فتویٰ نمبر : 5221/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں