بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

ورثا کے مابین کپڑوں کی تقسیم


سوال

اگر مورث کا ترکہ تقسیم کیا جائےاور اس میں صرف کپڑے باقی رہ جائیں تو شرعاً کپڑوں کی تقسیم کا  کیا طریقہ کار ہو سکتا ہےکیونکہ تمام ورثا کپڑوں کی تقسیم کا مطالبہ کرتے ہیں؟

جواب

                   شرعی نقطہ نظر سے وفات کے وقت میت کی ملکیت میں جو کچھ موجود ہو وہ سب اس کے ترکہ میں سے شمار ہوتا ہے، جسے ورثا کے مابین ان کے شرعی حصص کے بقدر تقسیم کیا جائے گا ۔

          لہذا صورت مسئولہ کے مطابق مورث کے کپڑے بھی باقی ترکہ کی طرح شرعی حصص کے مطابق ان کے ورثا میں تقسیم کیے جائیں گے۔

وعن أنس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : " من قطع ميراث وارثه قطع الله ميراثه من الجنة يوم القيامة".(مشكاة المصابيح،باب الوصايا،ج:2،ص:197)

(قوله الخالية إلخ) صفة كاشفة لأن تركه الميت من الأموال صافيا عن تعلق حق الغير بعين من الأموال كما في شروح السراجية.(رد المحتار على الدر المختار،كتاب الفرائض،ج:6،ص:759)


فتویٰ نمبر : 3373/297/323

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں