بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/10/2026

دارالافتاء

 

امام کا چندہ کے پیسوں سے تنخواہ پوری کرنا


سوال

میں ایک  مدرسے میں پڑھاتاہوں اور مدرسے کے اندر مسجد کا امام ہوں  مجھے امامت  کی 5000تنخواہ ملتی ہے ۔کبھی کبھی 5000سے کم ملتی ہے ۔اب لوگ مجھے مدرسے کے لیے پیسے دیتےہیں۔کیا میں اپنی مرضی سے 5000سے جو مجھے کم تنخواہ ملی ہے اس سے پوری کرسکتاہوں یا نہیں؟اور مہتمم کی اجازت سے مجھے ہر روز 50روپے ناشتے کے ملتےہیں ۔اب  میں ان  50روپوں کو بچاکر اپنی کسی دوسری ضرورت میں لگاسکتاہوں یا نہیں ؟اس کے بارے میں رہنمائی فرمائیں۔

جواب

               ہر وہ عقد جو انسان خود کرسکتا ہواس  میں دوسرے کو وکیل  بھی بنا سکتاہے۔پھرعقد وکالت میں وکیل اتنا تصرف کرسکتا ہے جتنا اس کو اختیار دیا گیاہومؤکل کی اجازت کے بغیر وکیل تصرف کا مجاز نہیں ہوتا۔

              صورت مسئولہ کے مطابق امام صاحب  کی حیثیت وکیل کی ہے،چونکہ مؤکل نے چندہ مدرسہ کےلیے دیاہے اس لیے براہ راست اس چندہ کے پیسوں سے اپنی تنخواہ پوری کرنا جائز نہیں ہے۔

             جہاں تک مہتمم کی جانب سے ناشتے کے 50روپے ملتے ہیں تو امام اس کا مالک ہوتا ہے اس لیے ان پیسوں کو  اپنی دوسری ضروریات میں استعمال کرسکتاہے۔

 

كل عقد جاز أن يعقده الإنسان بنفسه جازأن يؤكل به غيره.(فتح القدير،كتاب الوكالة،ج:8،ص:3)

إنّ الوكيل من حيث هو وكيل يملك جنس التصرّف من جهة المؤكّل.(فتح القدير،كتاب الوكالة ،ج:8،ص:12،13)      

فإن القياس أن يتصرف المالك في ملكه كيف شاء.(البناية شرح الهداية،كتاب الصلاة،البيع عند أذان الجمعة،ج:8،ص:218)


فتویٰ نمبر : 5256/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں