بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 21/10/2026

دارالافتاء

 

اپنا نکاح خود پڑھانے کا شرعی حکم


سوال

میں نے اپنی بیوی کو  کہا تھا کہ "میرا تجھ سے کوئی تعلق نہیں میرے سامنے سے دفع ہوجاؤ " اور میری نیت ایک طلاق کی تھی تو پوچھنے پر پتہ چلا کہ ایک طلاق بائن واقع ہو گئی  ہے، لیکن بیوی کے علاوہ کسی کو اس طلاق کی خبر نہیں تھی ،پھر میں نے بیوی سے اس کے ساتھ دوبارہ  نکاح کرنے کی اجازت لی اور میں بیوی کی طرف سے وکیل بھی بن گیا اور دو گواہوں کے سامنے میں نےاپنا نکاح خود پڑھ  لیا تو کیا یہ نکاح ہو گیا ہے؟

 

جواب

             اگرعاقلہ بالغہ لڑکی اپنے نکاح کا وکیل کسی لڑکے  کو بنائے اور لڑکا دو مسلمان مرد گواہوں کی موجودگی میں اس لڑکی سے اپنا نکاح خود پڑھالے تو یہ نکاح شرعًا منعقد ہوجائے گا۔

           صورت مسئولہ میں اگر سائل نے   مذکورہ عورت کی طرف سے وکیل بن کر  دو گواہوں  کی موجودگی اپنے لیے قبول کیا ہے تو یہ نکاح ہوگیاہے۔  اپنا نکاح خود پڑھانے میں شرعا کوئی قباحت نہیں۔

 

قال: "النكاح ينعقد بالإيجاب والقبول بلفظين يعبر بهما عن الماضي...ولا ينعقد نكاح المسلمين إلا بحضور شاهدين حرين عاقلين بالغين مسلمين رجلين أو رجل وامرأتين. (الهداية، كتاب النكاح، ج:2، ص:325،326)

(كما للوكيل) الذي وكلته أن يزوجها على نفسه فإن له (ذلك) فيكون أصيلا من جانب وكيلا من آخر. (الدر المختار مع ردالمحتار،کتاب النکاح، باب الكفاءة، مطلب في الوكيل والفضولي في النكاح)


فتویٰ نمبر : 6539/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں