بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

قسم کھائے بغیر بیوی سے دور رہنا


سوال

 ایک شخص سے بیوی ناراض ہوکر میکے چلی گئی تھی اور طلاق مانگ رہی تھی تو اس شخص نے کہاکہ " اپنی بیوی کو طلاق بالکل نہیں دوں گا لیکن بیوی کے قریب نہیں  جاؤں گا اور نہ اس سے ملوں گا"  اور  اس طرح جدائی میں چار ماہ سے کچھ زائدعرصہ گزر چکا ہے۔ کیا یہ ایلا شمار ہوگا یا نہیں؟

جواب

              ایلا کے وقوع کے لیے ضروری ہے کہ شوہر اپنی بیوی سے چار ماہ یا اس سے زائد عرصہ تک ہم بستری کرنے سے دور رہنے کی قسم کھائے یا اتنی مدت کے لیے بیوی کے قریب جانے کو ایسے کام پر معلق کرے جس کا کرنا اس پر شاق ہو۔

              صورت مسئولہ میں بیوی کے قریب نہ جانے پر نہ قسم کھائی گئی ہےاور نہ ہی اس کو کسی ایسے کام پر معلق کیا گیا ہے جس کا کرنا شوہر کے لیے گراں ہو، اس لیے ان الفاظ سے ایلا نہیں ہوا۔

 

وفي الشرع هو اليمين على ترك قربان الزوجة أربعة أشهر فصاعدا بالله تعالى، أو بتعليق ما يستشقه على القربان. )رد المحتار على الدر المختار، کتاب الطلاق، باب الايلاء، ج:5، ص:58)

 لو قال: لا أقربك، ولم يقل والله لا يكون مولياً . (البحر الرائق، كتاب الطلاق، باب الإيلاء، تحت قوله : والله لا أقربك، ج:4، ص:102)


فتویٰ نمبر : 6532/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں