بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/10/2026

دارالافتاء

 

پاکدامن عورت سے زانی کے نکاح کا حکم


سوال

میں ایک شخص سے شادی کرنا چاہتی ہوں اور وہ بھی مجھ سےشادی کرنا چاہتا ہے،مگر وہ ملک سے باہر ہوتا ہے تو اس کے قول کے مطابق وہاں ایک لڑکی سے اس نے ناجائز تعلقات بنالیے ہے۔وہ بہک گیا تھا،کیونکہ وہ لڑکی خود اس سے تعلق بنانا چاہتی تھی۔اب اس نے میرے سامنے اعتراف کرلیا کہ اس کے نا جائز تعلقات تھےاور وہ معافی مانگنا چاہتا ہےاور آئندہ کے لیے توبہ کا ارادہ کرتا ہے،تو کیا ابھی  بھی اس کو شرعی سزا سو کوڑے والی ملے   گی یا نہیں۔اور اگر نہیں ملے گی تو  اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟نیز میرا اس سے  نکاح جا ئز ہے یا نہیں؟سب سے اہم بات کہ  کیا میں اپنی نمازوں میں اس  کی ہدایت کے لیے دعا کر سکتی ہوں اور  کیا نامحرم کے  لیے کی گئ جائز دعا قبول ہو سکتی ہے یا نہیں ،یعنی میری اس کی ہدایت کے لیے کی گئ دعا  قبول ٍہو  سکتی ہے یا نہیں؟

جواب

                 واضح رہے  کہ ہر مومن چاہے  مرد  ہو یا عورت اس کو چاہیے کہ وہ اپنے  لیے ایسے رفیق حیات  کا انتخاب کرے جو پاکدامن ہو۔

                صورت  مسئولہ کے مطابق سائلہ کو چاہیے  اپنے لیے کسی ایسے آدمی کا انتخاب کرے جو کہ پاک دامن ہو،ایسے آدمی سے نکاح کرناجوکہ گناہ کا عادی ہو اور گناہ سے باز نہ آتاہواس کے ساتھ نکاح کرنے سے بچنا چاہیے ،تاہم اگر سائلہ کو یقین ہوکہ یہ شخص آئندہ ایسے گناہ سے اجتناب کرے گاتو پھر اس کے ساتھ نکاح کرنے اور اس کے لیے دعائے مغفرت کرنے کی گنجائش ہے ،اور جہاں تک سو کوڑوں کی بات ہے،تو یہ ریاست اور حاکم وقت کے دائرہ اختیار میں ہے انفرادی طور پر کوئی شخص یہ حدود جاری نہیں کرسکتا۔

 

(وَالزَّانِيَةُ لَا يَنْكِحُها إِلاَّ زانٍ)لا يَصِحُّ الْعَقْدُ مِنَ الرَّجُلِ الْعَفِيفِ عَلَى الْمَرْأَةِ الْبَغِيِّ مَا دَامَتْ كَذَلِكَ حَتَّى تُسْتَتَابَ، فَإِنْ تَابَتْ صَحَّ الْعَقْدُ عَلَيْهَا وَإِلَّا فَلَا، وَكَذَلِكَ لَا يَصِحُّ تَزْوِيجُ الْمَرْأَةِ الْحُرَّةِ الْعَفِيفَةِ بِالرَّجُلِ الْفَاجِرِ الْمُسَافِحِ حَتَّى يَتُوبَ تَوْبَةً صَحِيحَةً.(تفسير ابن كثير،ج:2،ص:582)

وعن أبي الدرداء رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : " دعوة المسلم لأخيه بظهر الغيب مستجابة عند رأسه ملك موكل كلما دعا لأخيه بخير قال الملك الموكل به : آمين ولك بمثل "۔(مشكوة المصابيح،كتاب الدعوات،ج:1،ص:196)

رجل أتى بفاحشة ثم تاب وأناب إلى الله تعالى فإنه لا يعلم القاضي بفاحشته لإقامة الحد عليه؛ لأن الستر مندوب إليه.(ردالمحتارعلى الدرالمختار،كتاب الحدود،ج:6،ص:4)


فتویٰ نمبر : 6583/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں