بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/10/2026

دارالافتاء

 

لڑکی کے خاندان والوں کا رخصتی میں رکاوٹ بننا


سوال

اگر کسی  لڑکی کالڑکے کے  ساتھ   نکاح ہو جائےجس پر  دونوں کے خاندان  والے راضی ہو ں  لیکن رخصتی سے قبل  کسی وجہ سے دونوں خاندانوں کے درمیان اختلافات پیدا ہو جائیں جس کی وجہ سے لڑکی کے خاندان والے رخصتی پر راضی نہ ہو ں اور لڑکی کوخلع لینے پر مجبور کرتے ہوں  البتہ لڑکا اور لڑکی دونوں نکاح کو برقرار رکھنے  پر راضی ہوں لیکن لڑکی کو اس بات کا ڈر ہوکہ لڑکےکو اختیار کرنے کی صورت میں اپنے خاندان والوں کو  چھوڑنا  پڑے گا اوراگر خاندان والوں کی مان کر   خلع لے تو اس کی زندگی خراب ہو جائے گی  تو ایسی صورت میں اگر لڑکی والدین کی بات نہ مان کر شوہر کے پاس چلی جائے تو شرعاً اس کا کیا حکم ہو گا ؟

جواب

            نکاح ہو جا نے کے بعد حتی الامکان رخصتی میں بلا وجہ تاخیر نہیں کرنی چاہیے، کیوں کہ شریعتِ مطہرہ میں بالغ ہونے کے بعد جلد نکاح کرنے کے جو مقاصد ہیں یعنی عفت و پاک دامنی کا حصول،وہ رخصتی سے ہی حاصل ہو سکتے ہیں،البتہ کسی معقول عذرکی بنا   پراگر رخصتی میں کچھ تاخیر ہوجائے تو اس میں شرعاً حرج نہیں ہے۔

             صورت مسؤلہ کے مطابق اگر لڑکی اور لڑکے کا نکاح  خود ان کے اوران کے خاندان والوں کی رضا مندی سے ہو جائے  اور پھر اختلافا ت کی وجہ سے لڑکی کے خاندان والےبلا کسی وجہ کے  رخصتی  میں رکاوٹ پیدا کریں  جب کہ لڑکی اور لڑکا دونوں نکاح کو برقرار رکھنا چاہیں تو لڑکی کو چاہیے کہ  والدین کو حکمت کے ساتھ  رخصتی کے لیے  قائل کرنے کی  کو شش کرےاور  والدین کے ذمے بھی لازم ہے کہ وہ اپنی اولاد  کی مرضی اور اپنے کیے ہوئےوعدے کا خیال رکھیں اولاد کو ان کی جائز حقوق سے محروم نہ رکھیں اور ان پر بے جا ظلم و زیادتی سے ہر طرح گریز کریں تا ہم اگر پھر بھی  لڑکی کے خاندان والے راضی نہ ہو ں ،  تو ایسی صورت میں لڑکی کے لیے  نکاح کے بعد خاندان والوں کی  خوشی کے لیے خلع لینا صحیح نہیں اور  ان کی اطاعت نہ  کرنے کا گناہ بھی نہ ہو گا ۔ 

 

عن محمد بن عمر بن علي بن أبي طالب، عن أبيه، عن علي بن أبي طالب، أن النبي صلى الله عليه وسلم قال له: " يا علي، ثلاث لا تؤخرها: الصلاة إذا آنت، والجنازة إذا حضرت، والأيم إذا وجدت لها كفئا۔( سنن الترمذي، باب ما جاء في الوقت الأول من الفضل،ج:1،ص:320)

عن أبي سعيد، وابن عباس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " من ولد له ولد فليحسن اسمه وأدبه، فإذا بلغ فليزوجه فإن بلغ ولم يزوجه فأصاب إثما، فإنما إثمه على أبيه۔(شعب الإيمان ،حقوق الأولاد والأهلين،ج:11۔ص:137)

وإذا نقد الزوج المهر وطلب من القاضي أن يأمر أبا المرأة بتسليم المرأة فقال أبوها: إنها صغيرة لا تصلح للرجال ولا تطيق الجماع وقال الزوج بل هي تصلح وتطيق ينظر إن كانت ممن تخرج أخرجها وأحضرها وينظر إليها فإن صلحت للرجال أمر بدفعها إلى الزوج، وإن لم تصلح لم يأمره۔(الفتاوى الهندية،وقت الدخول بالصغيرة،ج:1،ص:287)


فتویٰ نمبر : 6533/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں