بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 26/10/2026

دارالافتاء

 

کرایہ پر دیے ہوئے سپر سٹور کا ایک حصہ بیچ کر خریدار سے کرایہ پر لینا


سوال

ایک پلازہ میں بڑا سپر سٹور ہے جو مکمل ایک کمپنی کو دس سال کے لیے اجرت پر دیاگیا ہے اس کا مالک اس سٹور میں سے ایک متعین جگہ مثلاً:پانچ سو مربع فٹ شمالِ مشرق کی طرف کونے میں ایک شخص کو فروخت کر دیتا ہے اور ملکیت منتقل کرنے کے کاغذات لکھ دیے جاتے ہیں البتہ مالک سے کہتا ہے کہ چونکہ میں نے دس سال  کے لیے یہ کرایہ پر دیا ہے اس لیے اس معاہدہ کی پاسداری خریدار بھی کرے گا اور وہ اس کرایہ دار کو وہاں سے بے دخل نہیں  کرے گا ۔خریدا را س پر راضی ہے ۔پھر مالک اس سے کہتا ہے کہ تم اپنی جگہ مجھے ایک لاکھ ماہانہ کے عوض کرایہ پر دے دو  میں متعین کرایہ نہیں دوں گا تو کیا یہ معاملہ شرعاً جائز ہے واضح رہے کہ خریدارکو اختیا ر ہے کہ اس جگہ کو بیچےیا دس سالہ  معاہدے کے بعد اپنی مرضی سے کسی اور کو کرایہ پر دے ۔

جواب

            کوئی شخص  کرایہ پر دیا ہوا  اثاثہ کرایہ دار کے علاوہ کسی تیسرے  شخص  کو فروخت کر سکتا ہے ، ایسی صورت میں  اس اثاثہ کی ملکیت اور اجارہ کے تمام حقوق اور ذمہ داریاں خریدار کو منتقل ہو جا تی ہیں تاہم اگر خریدار کو اس  اجارہ کے معاملہ  کا پہلے سے  علم  نہ ہو  تو اسے اس عقد کو ختم کرنے کا اختیار ہے لیکن اگر وہ اس اجارہ کو پہلے سے  جانتا تھا اور اس نے یہ معاملہ قبول کر لیا تھا  تو  اسے عقد ِ بیع فسخ کرنے کا اختیار نہیں  ۔

             صورت مسؤلہ کےمطابق اگر خریدار  نے  سپر سٹور میں کسی   متعین جگہ کو خریدا ہو جب کہ وہ سپر سٹور پہلے سے کسی کمپنی کو دس سال کے لیے کرایہ پر دیا گیا ہو   اور فروخت کنندہ (سٹور کا مالک)اس متعین جگہ کی ملکیت منتقل کرنے کے بعدخریدار سے اس بات کا  معاہدہ کرلے کہ وہ کرایہ دار کو بے دخل نہیں  کرے گا  نیز خریدار کواس جگہ کے بیچنے یا دس سالہ معاہدے   کے بعد کسی اور کو کرایہ پر دینے کا اختیار ہوتو  اس متعین جگہ کی ملکیت خریدار کی طرف منتقل ہو جائے گی اور  اس کا کرایہ بھی اسی کا حق ہو گا لہذا زمین کے مالک  کا   خریدار کو یہ کہنے کا کوئی معنی نہیں    کہ" یہ جگہ مجھے ایک لاکھ ماہانہ کے عوض کرایہ پر دے دو  "کیونکہ   یہ جگہ پہلے سے کمپنی کو کرایہ پر دی گئی ہے، تاہم  اگر خریدار اس کو کرایہ وغیرہ کے انتظام سنبھالنے کے عوض  کوئی متعین اجرت دینا چاہے تو اس میں کو ئی مضائقہ نہیں نیز پہلے عقد کے ختم ہونے کے بعد خریدار الگ عقد جارہ پر دے سکتا ہے ۔

 

لو باع الآجر المأجور بدون إذن  المستأجر يكون البيع نافذا بين البائع والمشتري وإن لم يكن نافذا في حق المستأجر حتى أنه بعد انقضاء مدة الإجارة يلزم البيع في حق المشتري وليس له الامتناع عن الاشتراء إلا أن يطلب المشتري تسليم المبيع من البائع قبل انقضاء مدة الإجارة۔(شرح المجلة، الفصل الثاني في تصرف العاقدين في المأجور بعد العقد،ج:1،ص:109،رقم المادة:590)

(وبخلاف بيع ما آجره) ، فإن هذا ليس بعذر للفسخ بدون لحوق دين لإمكان استيفاء المستأجر والعين على ملك المشتري كما يستوفيها والعين على ملك البائع ۔( مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر،باب فسخ الإجارة،ج:2،ص:400)

یحــق للمؤجر بيع العين المؤجرة لغير المســتأجر، وتنتقل ملكيتها محملة بعقد الإيجار؛ لأنه حق للغير، ولا يشــترط رضا المستأجر، أما المشــتري فإنه إذا لم يعلم بعقد الإيجار فله حق فســخ البيع، وإذا علم وقبل فإنه يحل محل المالك السابق في استحقاق الأجرة عن المدة الباقية۔(المعا ييرالشرعية،المعيار الشرعي رقم:9،ص:251)


فتویٰ نمبر : 3184/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں