بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 27/10/2026

دارالافتاء

 

پائریٹڈ کتابوں کی خرید وفرخت


سوال

 آج کل بازار میں انگریزی کی پائریٹڈکتابیں فروخت کی جاتی ہیں تو کیا ان کتابوں کا خریدنا جائز ہے یا نہیں ؟اور اگر جائز نہیں تو جو کتابیں خریدی گئی ہیں ان کا کیا کیا جائے؟

جواب

              واضح رہے کہ جو شخص کسی  کتاب کی تصنیف یا  تالیف کرے تو اس کو اس بات کا حق حاصل ہوتا ہے کہ وہ اپنے لیے حق طباعت  کو محفوظ کرکےاپنی تصنیف کردہ کتاب سےنفع حاصل کرے،اورباقی لوگوں پر اس کی نشرواشاعت کی پابندی لگادے۔ مؤلف يا ناشر اس حق كا مالك ہے اور مالک کو اپنی ملکیت میں ہر طرح کی پابندی لگانے کا اختیارہے ۔ موجودہ دور میں حق طباعت کے ساتھ مال جیسا معاملہ کیا جاتا ہے،اور اس کی خرید وفروخت ہوتی ہے ،اس لیے مؤلف یا   ناشر کی اجازت کے بغیر ان کی کتابوں کو چھاپنا ،اور فروخت کرناجائز نہیں  ،تاہم وہ کتابیں جن کے مؤلفین نےحق طباعت کو اپنے لیے محفوظ نہ کیا ہوتوایسی کتابوں کومؤلفین کی اجازت کے بغیر چھاپنااور خریدنا جائز ہے، البتہ جہاں تک ان کی خریداری کی بات ہے تو اگر خریدار کو اس بات کا علم ہو کہ یہ کتابیں بغیر اجازت کےچھاپی گئی ہیں تو ان کتابوں کے خریدنے سےاجتناب کیا جائےاور اگر معلوم نہ ہو تو پھر خریدنےکی گنجائش ہے۔

            لہذا صورت مسئولہ کےمطابق اگر خریدارکوعلم ہوکہ یہ پائریٹڈ کتابیں ہیں توایسی کتابوں کو نہ خریدے،اور اگر اس بات کا علم نہ ہو تو پھر خریدنےمیں کوئی حرج نہیں ،نیز جو کتابیں خریدی گئی ہیں ان کواستعمال کرسکتے ہیں،استعمال میں کوئی حرج نہیں۔

 

عن أنس بن مالك،أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «‌لا ‌يحل ‌مال ‌امرئ مسلم إلا بطيب نفسه» (سنن الدارقطني،كتاب البيوع،ج:3،ص:22)

لا يجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي.(رد المحتارعلى الدر المختار،كتاب الحدود،باب التعزير،ج:6،ص:106)

المراد بالمال ما يميل إليه الطبع ويمكن ادخاره لوقت الحاجة، ‌والمالية ‌تثبت بتمول الناس كافة أو بعضهم، والتقوم يثبت بها وبإباحة الانتفاع به شرعا.(ردالمحتارعلى الدر المختار،كتاب البيوع،مطلب في تعريف المال، ج:7،ص:10)

فكل ‌عين ‌قائمة يغلب على ظنه أنهم أخذوها من الغير بالظلم وباعوها في السوق فإنه لا ينبغي أن يشتري ذلك وإن تداولتها الأيدي. (الفتاوى الهندية،كتاب الكراهية،الباب الخامس والعشرون،ج:5،ص:420)  


فتویٰ نمبر : 3200/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں