بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

منگیترکی ماں کوہاتھ لگانےسےحرمت مصاہرت کاحکم


سوال

کچھ عرصہ پہلے کی بات ہے کہ میں اپنی منگیتر کی والدہ جو کہ ہماری رشتہ دار بھی ہے کےساتھ بازار سے آرہا تھا، راستے میں چلتے چلتے اچانک پتہ نہیں میرے ذہن میں کیا خیال آیا میں نے اُن کا ہاتھ پکڑ لیا اُنھوں نے چونکہ عبایا پہنا ہوا تھا اب مجھے یاد نہیں کہ میں نے اُن کا ہاتھ کلائی کے نیچے سے پکڑا تھا یا اوپر سے یعنی آستین اور عبایا ڈبل کپڑا تھا اب مجھے یاد نہیں پڑھ رہا کہ کے جو ڈھانپا ہوا حصہ تھا وہ میں نے پکڑا تھا یا کلائی جو ڈھانپی ہوئی نہیں تھی دوسرا مجھے یہ بھی یاد نہیں کہ جب میں نے اُن کا ہاتھ پکڑا تو میری شہوت میں اضافہ ہوا تھا یا نہیں میں بہت پریشان ہوں کہ اگر حرمت مصاہرت ثابت ہوتی ہے تو کیا ہوگا ہماری فیملی چونکہ پورے علاقے میں کافی عزت دار فیملی ہے اگر میرا رشتہ اِس بنیاد پر ختم ہوتا ہے پوری برادری میں ہماری ذلت و رسوائی بھی ہوگی رشتہ داری سے بات دشمنی پر بھی جا سکتی ہے دوسرا یہ کہ میری والدہ نے بہت چاہت اور محبت سے میرا یہ رشتہ طے کیا ہے مجھے یہ ڈر ہے کہ رشتہ ختم ہونے کیساتھ اگر میری والدہ کو کچھ ہوگیا تو میں جیتے جی مرجاونگا اور میں خود بھی یہ رشتہ ختم نہیں کرنا چاہتا میں اپنے کیے پر توبہ تائب بھی ہوا ہوں اور انتہائی شرمندہ بھی ہو آپ مفتیان کرام سے التجا ہے کہ میرے لیے کوئی راستہ نکالا جائے تاکہ میرا گھر فیملی میرا رشتہ سب بچ جائے۔

جواب

              فقہاے کرام کی تصریحات کے مطابق  مرد کا کسی نامحرم عورت کو ہاتھ لگانے سے حرمت مصاہرت تب ثابت ہوتی ہے،جب

(1)ہاتھ لگاتےوقت شہوت پیدا ہوجائے،یاپہلے سے موجودشہوت میں اضافہ ہوجائے،

(2)درمیان میں کوئی ایسا موٹاحائل نہ ہو،جوبدن کی حرارت  ہاتھ تک پہنچنے میں مانع ہو،

(3)جس عورت کوہاتھ لگایاہو،وہ مشتہاۃیعنی قابل شہوت ہو،

(4)ہاتھ لگانا جماع کی طرف داعی ہو،لہذااگر ہاتھ لگاتےوقت انزال ہوجائے،توحرمت مصاہرت ثابت نہیں ہوگی کیونکہ انزال کے ساتھ معلوم ہواکہ ہاتھ لگانامفضی الی الجماع نہیں ہے،

              لہذا صورت مسئولہ کے مطابق اگر منگيتركی ماں كو ہاتھ لگاتےوقت شہوت میں اضافہ  کایقین نہ ہو،تومحض شک کی بناپرحرمت مصاہرت ثابت نہیں ہوتی۔

 

ثم المس إنما يوجب حرمة المصاهرة إذا لم يكن بينهما ثوب، أما إذا كان بينهما ثوب فإن كان صفيقا لا يجد الماس حرارة الممسوس لا تثبت حرمة المصاهرة وإن انتشرت آلته بذلك وإن كان رقيقا بحيث تصل حرارة الممسوس إلى يده تثبت، كذا في الذخيرة...ويشترط أن تكون المرأة مشتهاة، كذا في التبيين...ولو مس فأنزل لم تثبت به حرمة المصاهرة في الصحيح؛ لأنه تبين بالإنزال أنه غير داع إلى الوطء... وفي المس والنظر إلى الفرج لا يفتى بالحرمة إلا إذا تبين أنه فعل بشهوة؛ لأن الأصل في التقبيل الشهوة بخلاف المس والنظر، كذا في المحيط.(الفتاوى الهندية،كتاب النكاح،     الباب الثالث في بيان المحرمات،ج:1،ص:341،340)

قاعدة : من شك هل فعل شيئا أم لا فالأصل أنه لم يفعل۔(الأشباه والنّظائرعلى مذهب أبي حنيفةالنعمان،القاعدةالثالثة،ص:50)


فتویٰ نمبر : 6564/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں